عالمگیر شہرت حاصل کرنے والے پاکستانی نوجوان

لاہور: ایسے پاکستانی نوجوانوں کی فہرست طویل ہے جنہوں نے بیرون ملک شہرت پائی، ان میں سے چند اہم ناموں کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے سائنسی ترقی اور سماجی فلاح کو فروغ دینے کی ضرورت کو ہمہ وقت محسوس کیا جاتا ہے۔

وسائل کی کمی، رجعتی تصورات، انفراسٹریکچر کی کمیابی، بدعنوانی اور نظام کی خرابی کے باعث بہت سے باصلاحیت نوجواناپنا کردار پوری طرح ادا نہیں کر پاتے۔

اس صورت حال کے باوجود ایسے نوجوان بھی ہیں جو تمام تر مشکلات کو عبور کرتے ہوئے اپنا آپ منواتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی قدر کی جانی چاہیے اور ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے چاہیں جن میں تمام نوجوان نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے قابل ہوں بلکہ ان میں نکھار بھی لا سکیں۔

ملک میں درمیانے اور بالائی طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو نسبتاً بہتر مواقع اورسہولیات میسر آتی ہیں لہٰذا ان کے آگے بڑھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

تاہم کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والے کے لیے کسی بھی شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دینا اور نام کمانا آسان نہیں ہوتا۔ بہت سے پاکستانی نوجوان مسابقت بھرے ماحول میں اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے بھرپور جدوجہد کرتے ہیں اور پھر تاریک آسمان پر چمکتے ہوئے کسی تارے کی طرح ان کا نام نظر آنے لگتا ہے۔

ایسے پاکستانی نوجوانوں کی فہرست طویل ہے جنہوں نے بیرون ملک شہرت پائی، ان میں سے چند اہم ناموں کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

محمد شہیر نیازی

محمد شہیر نیازی پاکستان کے لیے فزکس میں نوبیل انعام لانے کے متمنی ہیں۔ وہ 16 برس کے تھے جب ان کا تحقیقی مضمون رائل سوسائٹی اوپن سائنس جرنل میں شائع ہوا۔ اسی جریدے میں جب عالمی شہرت یافتہ سائنس دان نیوٹن کا مقالہ شائع ہوا تھا تو ان کی عمر 17 برس تھی۔

اگرچہ صرف مقالے کی اشاعت سے وہ نیوٹن کے ہم پلہ تصور نہیں کیے جا سکتے لیکن انہوں نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں وہ ایسے ہی کسی بڑے سائنس دان کا روپ دھاریں گے۔

جریدہ فوربز نے 2018ء میں 30 برس سے کم عمر نمایاں افراد کی جو فہرست شائع کی ہے اس میں شہیر نیازی کا نام شامل ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے بہت سے تجربہ کار سائنس دانوں کو حیران کر دیا۔

ان کی تحقیق الیکٹرانک ہنی کوم یا برقی چھتے پر تھی۔ اس کی ابتدا روس میں ہونے والے ایک ”ٹورنامنٹ“ سے ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب 2016ء میں روس میں ہونے والے ”بین الاقومی نوجوان ماہرین طبیعیات ٹورنامنٹ“ سے واپس آئے تو اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی پا کر انہوں نے کچھ خاص کرنے کی ٹھانی۔

اس کے بعد وہ پوری تندہی سے کام کرنے لگے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے الیکٹرونک ہنی کوم کے مظہر میں دو نئے عوامل کو متعارف کروایا۔ ماہرین طبیعیات کئی دہائیوں سے الیکٹرانک ہنی کوم کے مظہر سے واقف تھے۔

یہ تب ہوتا ہے جب سوئی اور سیدھی سطح کے برقیروں (الیکٹروڈز) کے برقی میدان (الیکٹرک فیلڈ) میں تیل کی تہہ موجود ہوتی ہے۔ اس سے شہد کے چھتے کی طرح کی ایک شکل وجود میں آتی ہے۔

پاکستانی نوجوان اس مظہر کے دوران آئی کونز کی حرکت کی تصاویر بنانے اور تیل کی سطح پر حدت کو ریکارڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ اس سے قبل یہ کام کسی نے نہیں کیا تھا۔

اس مظہر کے بارے میں سوال انہیں روسی ٹورنامنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس پر کچھ نیا پانے کے لیے انہوں نے ایک سال کام کیا اور ان کا مقالہ شائع ہونے کے لیے منظور کر لیا گیا۔ شہیر کے خیال میں پاکستان میں سائنس کے شعبہ میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

محمد وہاب فاروق

ڈاکٹر محمد وہاب فاروق کو گزشتہ برس 40 نوجوان اینالٹیکل یا تجزیاتی سائنس دانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ایک برطانوی میگزین ”دی اینالٹیکل سائنٹسٹ“ نے اپنی فہرست شائع کی جس میں ان 40 نوجوان سائنس دانوں کے ناموں کو شامل کیا گیا جنہوں نے سائنس کے اس مخصوص شعبہ میں ایجادات کیں اور اسے ترقی دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اس فہرست میں شامل دیگر سائنس دانوں کا تعلق امریکا، برطانیہ، جرمنی جاپان، کینیڈا، فرانس، نیدرلینڈز، اٹلی، برازیل اور ملائیشیا سمیت دنیا بھر سے ہے۔ محمد وہاب فاروق کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب کے فرزند ہیں اور یونیورسٹی آف ٹیکساس امریکا کے شعبہ کیمیا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ان کا نام تجویز کرنے والے ایک سائنس دان نے ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار نوجوان سائنسی محقق ہیں۔ ان جیسی صلاحیتیں کم ہی افراد میں ہوتی ہیں۔ فاروق وہاب نے یونیورسٹی آف کراچی سے کیمیا میں ماسٹرز کرنے کے دوران گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف البرٹا، کینیڈا سے پی ایچ ڈی کی۔

نرگس ماول والا

تقریباً دو سال قبل ایک ٹیم نے ثقلی لہروں کو دریافت کیا۔ نظریے کی رو سے آئن سٹائن بیان کر چکے تھے کہ کائنات میں ان کا وجود ہے لیکن ٹھوس اور سائنسی ثبوت نہیں ملا تھا۔

اس مقصد کے لیے امریکا میں دو لیبارٹریاں قائم تھیں جہاں سائنس دان ایسی کسی خفیف حرکت کی کھوج میں تھے جو ان کے وجود کو ثابت کر سکے۔ بالآخر انہیں کامیابی مل گئی۔ یہ لہریں دو بلیک ہولز کے ٹکرانے سے پیدا ہوئیں اور زمین پر ان کے وجود کا پتا چل گیا۔ جس ٹیم نے یہ دریافت کیں ان میں ایک پاکستانی نژاد امریکی خاتون سائنس دان نرگس ماول والا بھی شامل تھیں۔

وہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) امریکا کے شعبہ طبیعیات کی نائب سربراہ ہیں۔ وہ ان تین اداروں کی مشترکہ ٹیم کا حصہ رہیں جس نے کشش ثقل کی لہروں کے براہ راست مشاہدے کی منصوبہ پر کام کیا۔

وہ ایم آئی ٹی کے شعبہ فزکس سے 2002ء میں منسلک ہوئیں۔ 2010ء میں انہیں میک آرتھر فیلو شپ سے نوازا گیا۔ نرگس نے لیزر، میکروسکوپک عناصر اور روشنی کی مخصوص حالتوں پر قابل ذکر تحقیق کی ہے۔

وہ لاہور میں پیدا ہوئیں لیکن کراچی میں پلی بڑھیں۔ کراچی ہی سے انہوں نے او لیول اور اے لیول کیا۔ 1986ء میں وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا چلی گئیں اور ویلیزلے کالج میں داخلہ لیا۔ 1990ء میں انہوں نے اس کالج سے طبیعیات اور فلکیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1997ء میں انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کا تعلق پارسی خاندان سے ہے۔ انہیں بچپن ہی سے ریاضی اور سائنس سے رغبت تھی۔

محمد وقاص عثمان ہنگورو

محمد وقاص عثمان ہنگورو کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے۔ وہ کینسر کو مات دینے والا ایسا طریقہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی مدد سے اس موذی مرض کی بہت سی اقسام کا علاج ممکن ہو پائے گا۔

یہ کارنامہ انہوں نے ایک ٹیم کے رکن کے طور پر انجام دیا۔ اسے کینسر کی حیاتیات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی انجام دہی میں دیگر بین الاقوامی سائنس دانوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
تحقیق کے مطابق انسانی خون میں موجود سرخ خلیوں کے ایک مخصوص جزو میں کینسر کی ادویات کے نفوذ کی صلاحیت پائی جاتی ہے جس سے کینسر کے علاج میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں انہوں نے انسانی جسم میں خلیات کے درمیان رابطہ کرنے والے بین الخلیاتی اجسام یا ایکسٹرا سیلولر ویسیکلز کو دوا پُراثر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ یہ تحقیق موقر سائنسی جریدہ ”نیچر“ میں شائع ہوئی۔

محمد وقاص ہنگورو کے متعدد تحقیقی مقالے بین الاقوامی سائنسی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ 2013ء میں انہیں چینی حکومت کی جانب سے ماسٹرز کے لیے سکالرشپ ملا۔

اس کے بعد وہ فلبرائٹ سکالرشپ پانے میں کامیاب ہوئے اور سٹی یونیورسٹی ہانگ کانگ میں پی ایچ ڈی کرنے لگے۔ اسی دوران ہی ڈاکٹر منہ لی کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں مذکورہ دریافت سامنے آئی۔

گزشتہ برس ان کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے ”گوانگ ڈانگ ہانگ کانگ مکاؤ گریٹر بے ایریا بائیو میڈیکل سائنس فورم“ نے انہیں انٹرنیشنل سمپوزیم آف گریجوایٹ سٹوڈنٹس میں اول حیثیت کا مستحق ٹھہرایا۔ اس میں دنیا بھر سے ڈیڑھ سو سے زائدطلبہ شامل تھے۔

ڈاکٹر نوید سید

انسان کو مشینوں، کمپیوٹر اور سافٹ وئیر سے منسلک کرنے کا تصور پرانا ہے۔ اس سلسلے میں ادب بھی تخلیق ہوا، فلمیں بھی بنیں اور ڈرامے بھی۔ ان میں کہیں روبوٹ نما انسانوں کو دکھایا جاتا اور کہیں کوئی کمپیوٹر چپ انسان کو کنٹرول کرتے یا اس پر نظر رکھتے نظر آتی۔

سائنس دانوں نے بھی انسان اور مشین کے ملاپ کی کاوشیں کیںجن میں سے ایک دماغ کے خلیوں کو چِپ سے ملانے کی تھی۔ ڈاکٹر نوید سید پاکستانی نژادکینیڈین سائنس دان ہیں۔ وہ پہلے سائنس دان ہیں جنہوں نے دماغی خلیوں کے ساتھ سیلی کون چِپ کو منسلک کیا یعنی ایک اعصابی چِپ تیار کر لی۔ اس سے پٹھوں تک پہنچنے والے دماغ کے پیغامات معلوم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

نوید سید اس کی مثال یوں پیش کرتے ہیں ”یہ ایسا ہے کہ دو افراد کچھ فاصلے پر باتیں کر رہے ہیں اور آپ نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کی زبان تک سے بھی واقف نہ ہوں۔ لیکن پھر آپ ان کے درمیان ایک مائیکروفون رکھ دیں۔ دوسرے الفاظ میں آپ یہ گفتگو سننے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس ایجاد سے اعصابی بیماریوں اور خلل کی ادویات کے تجربات سے بہتر طور پر نتائج اخذ کرنا ممکن ہو گا۔

عمر سیف

عمر سیف 1979ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا شعبہ کمپیوٹر سائنس اور تدریس ہے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یورنیورسٹی کے کئی برس تک وائس چانسلر رہے۔ وہ صرف 34 برس کی عمر میں یونیورسٹی وائس چانسلر بنے جو اس وقت پاکستان میں ایک ریکارڈ تھا۔

انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف کیمبرج سے صرف 22 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کی۔

اس کے بعد وہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گئے اور 2002ء میں کمپیوٹر سائنس پر پوسٹ ڈاکٹریٹ ڈگری حاصل کی۔ اس یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری ”سی ایس اے آئی ایل“ میں وہ کام کرتے رہے اور یونیورسٹی کے اہم ”پراجیکٹ آکسیجن“ میں بھی خدمات انجام دیں۔

وہ 2005ء میں پاکستان آئے اور لمز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانے لگے۔ 2010ء میں عمر سیف کو عالمی اقتصادی فورم نے ”ینگ گلوبل لیڈر“ قرار دیا۔ 2011ء میں جاری ہونے والی ایک فہرست میں انہیں دنیا کے 35 اعلیٰ ترین نوجوان موجدوں میں شامل کیا گیا۔

یہ اعزاز انہیں بالخصوص ”بِٹ میٹ“ نامی بِٹ ٹورنٹ اور سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹیکسٹ میسج سافٹ وئیر ”ایس ایم ایس آل“ بنانے پر دیا گیا۔ اسی برس انہیں گوگل فیکلٹی ریسرچ ایوارڈ ملا۔

گزشتہ برس بل گیٹس نے ایک ملاقات میں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ بِٹ میٹ کی مدد سے ترقی پذیر ممالک میں انٹر نیٹ کی کم رفتار کے باوجود ڈاؤن لوڈ کی رفتار کو تقریباً دگنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایس ایم ایس آل کے ذریعے ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں میسج بھیجے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل چیمہ

پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر فیصل چیمہ کو گزشتہ برس دل کی پیوند کاری کی تحقیق کے لیے 40 لاکھ ڈالر سے نوازا گیا۔ ان کا تعلق وزیر آباد/ حافظ آباد سے ہے۔

وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں زیرتعلیم رہے۔ اس کے بعد وہ کراچی چلے گئے جہاں انہوں نے آغا خان یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ گریجوایشن کرنے کے بعد مزید تعلیم اور کام کے لیے وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا چلے گئے جہاں وہ کولمبیا یونیورسٹی، لویولا یونیورسٹی، جان پاپکنز یونیورسٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے منسلک رہے۔

وہ متعدد پیشہ ورانہ، علمی اور فلاحی تنظیموں اور اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ملک سے باہر رہنے کے باوجود وہ ملک میں میڈیکل کے شعبے اور اس کے طلبہ سے رابطے کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے کئی تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

محمد ہارون طارق

محمد ہارون طارق کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے اور ان کی وجہ شہرت کل 87 اے گریڈ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے جی سی ای ایڈوانسڈ لیول میں 30 اے گریڈ حاصل کیے۔

آئی جی سی ایس ای میں 29 اے گریڈ اورجی سی ای آرڈنری لیول میں 28 اے گریڈ حاصل کیے۔ ان کے اعلیٰ نمبروں کا سلسلہ یہاں رکتا نہیں۔ یوں ہارون طارق نے بہت سے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔

ان کی کامیابیوں پر اس وقت کے صدرپاکستان نے انہیں خصوصی مبارک باد دی۔ صدر ممنون حسین نے انہوں ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ انہیں مبارک باد دینے کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی مدعو کیا۔

اس فہرست میںوزیر اعظم عمران خان بھی شامل ہیں جو ان کے سکول گئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ پاکستان کے نیشنل بُک ایمبیسیڈر رہے۔

کمیل نانجیانی

کمیل نانجیانی پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ وہ سٹینڈ اپ کامیڈین، اداکار اور لکھاری ہیں۔ گزشتہ برس انہیں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا۔ انہیں بہترین اوریجنل سکرین پلے رائٹر کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا۔

وہ 18 برس کی عمر میں کراچی سے امریکا منتقل ہوئے۔ کمیل نانجیانی کا شو ”دی سیلی کون ویلی“ امریکا میں بہت مقبول ہوا۔ انہوں نے فلم ”دی بِگ سِک“ میں اداکاری کی جس نے بہت کامیابی حاصل کی۔

اس میں انہوں نے ایک ایسے پاکستانی نژاد امریکی لڑکے کا کردار ادا کیا جسے ایک سفید فام لڑکی سے شادی کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک دہائی سے زائد اپنے کیرئیر میں انہوں نے بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔

سکاٹ لینڈ میں ریڈیو پریزینٹر شیریں نانجیانی ان کی کزن ہیں۔ امریکا جانے کے بعد انہوں نے گرینل کالج سے 2001ء میں گریجوایشن کیا۔ اس میں ان کے مضامین کمپیوٹر سائنس اور فلسفہ تھے، لیکن انہیں کامیابی بالکل مختلف شعبے میں ملی۔ ان کی اہلیہ ایمی وی گورڈن مصنفہ اور کامیڈی پروڈیوسر ہیں۔

رضوان احمد

یکم دسمبر 1982ء کو پیدا ہونے والے رضوان احمد پاکستانی نژاد برطانوی اداکار اور ریپر (rapper) ہیں۔ نمایاں کارکردگی کے صلے میں وہ معروف امریکی ”ایمی ایوارڈ“ حاصل کر چکے ہیں۔

انہیں گولڈن گلوب، سکرین ایکٹرز گلڈ اور برٹش انڈیپنڈنٹ ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ ابتدا میں ”دی روڈ ٹو گوئٹے مالا (2006ء)، شفٹی (2008ء)، فور لائن (2010ء)، ٹرشنا (2011ء) اور دی رلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ (2013ء) جیسی فلمیں ان کی پہچان بنیں۔

اس کے بعد ”نائٹ کرالر“ کے ذریعے وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں۔ ان کے والد 1947ء میں آزادی کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور شپنگ سے وابستہ رہے۔ 1970ء کی دہائی میں ان کا خاندان کراچی سے برطانیہ آ گیا۔

رضوان احمد نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں ڈگری لے رکھی ہے، جسے پی پی ای کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ڈگری حاصل کرنے والوں نے بہت سے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔

انہیں یہ تعلیم زیادہ پسند نہ آئی اور پھر انہوں نے سنٹرل سکول آف سپیچ اینڈ ڈراما میں اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔ بطور مسلمان وہ مغرب میں اسلاموفوبیا کے مسئلے پر بات کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے شامی مہاجرین کے بچوں کے لیے فنڈ جمع کرنے میں بھی حصہ لیا۔ اس کے علاوہ وہ میانمار اور بنگلا دیش میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر آگہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے بھی نظر آئے۔

زین جواد ملک

جنوری 1993ء میں پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی زین جواد ملک جنہیں ”زین“ کے نام سے جانا جاتا ہے، معروف گلوکار اور نغمہ نگار ہیں۔ وہ بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئے۔ 2010ء میں انہوں نے برطانوی موسیقی کے مقابلے ”دی ایکس فیکٹر“ میں حصہ لیا۔

پہلے وہ اکیلے تھے اور انہیں مقابلے سے باہر کر دیا گیا۔ اس کے بعد چند دیگر نوجوانوں کے ساتھ ایک بینڈ کی صورت دوبارہ مقابلے کے لیے آئے۔ یہ بینڈ” ون ڈائریکشن“ کے نام سے مشہور ہوا۔

زین 2015ء میں اس بینڈ سے علیحدہ ہوئے، تاہم اس وقت تک وہ خاصی شہرت پا چکے تھے۔ زین امریکن میوزک ایوارڈ، بل بورڈ میوزک ایوارڈ اور ایم ٹی وی ویڈیو میوزک ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

ان کے والد یاسر ملک پاکستانی نژاد برطانوی ہیں جبکہ ان کی والدہ ٹریسیا برانان ملک سفید فام ہیں جنہوں نے شادی کے وقت اسلام قبول کر لیا تھا۔ زین کی ایک بڑی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں۔

انہیں بچپن ہی سے فنون لطیفہ سے دل چسپی تھی اور سکول میں وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے تھے۔ ان کے والد کو موسیقی سے رغبت تھی اور وہ اپنے والد کی کولیشن سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

غالباً اس عمل نے انہیں آگے چل کر اچھا گلوکار بنا دیا۔ انہوں نے سکول ہی میں نغمہ نگاری شروع کر دی تھی۔ جب گلوکار جے سین ان کے سکول آئے تو انہوں نے سٹیج پر نغمہ پیش کیا۔

وہ نوعمری میں باکسنگ بھی سیکھتے رہے۔ ابتدا میں وہ انگریزی کے استاد بننا چاہتے تھے لیکن وقت کا دھارا انہیں کسی اور سمت لے گیا۔ ان کے رویے کئی مرتبہ برطانوی ذرائع ابلاغ میں زیر بحث رہے۔

ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہونے کی ایک اور وجہ ان کی وجاہت ہے۔ وہ مبینہ طور پر اسلاموفوبیا کا شکار بھی ہوئے جس کی وجہ سے انہیں چند برس قبل اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ وہ انگریزی اور اردو پر عبور رکھتے ہیں اور عربی بھی پڑھ سکتے ہیں۔

لاریب عطا

لاریب عطا مقبول لوک گلوکار عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی بیٹی ہیں۔ وہ ہالی وڈ کی کئی فلموں میں ویژول ایفکٹس (وی ایف ایکس) آرٹسٹ کے طور پر کام کر چکی ہیں۔

لاریب عطا نے کم عمری ہی میں ہالی وڈ میں کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ویژول ایفکٹس آرٹسٹ ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے ”مشن امپوسیبل“ اور ”مشن امپوسیبل فال آؤٹ“ میں بھی اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا۔

وہ ”ایکس مین، گوڈزیلا، دی وایج آف دی ڈان ٹریڈرز اور پرنس کیسپین“ جیسی فلموں میں وی ایف ایکس آرٹسٹ کے طور پرکام کرتے ہوئے ثابت کر چکی ہیں کہ بصری اثرات پر انہیں کس قدر عبور حاصل ہے۔

انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز تقریباً 12 برس قبل 19 سال کی عمر میں کیا۔ ایک نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں وی ایف ایکس کی سمجھ نہیں آتی تھی۔

ان کے مطابق پہلی مرتبہ فلم ”ٹوائے سٹوری‘ دیکھ کر وہ متاثر ہوئیں اور انہوں نے سوچا کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ لاریب چاہتی ہیں کہ وہ پاکستانی خواتین کو بھی متاثر کریں۔

ان کے والد کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا تک آسان نہیں۔ ایسے ماحول میں انہوں نے جس طرح اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی ہے اور خوابوں کی تکمیل کا موقع دیا وہ قابل تحسین ہے۔

رابعہ شہزاد

20 برس کی عمر میں رابعہ شہزاد نے گزشتہ برس آسٹریلیا میں رالف کیش مین اوپن ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کی 55 کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیتا۔ انہوں نے اسنیچ اور کلین اینڈ جرک کے ساتھ کل 90 کلوگرام وزن اٹھایا۔

اس سے قبل دبئی میں ایشین بینچ پریس چمپئن شپ میں وہ 52 کلوگرام کی کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیت چکی تھیں۔ وہ ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں لیکن انہیں گلہ ہے کہ کھیل سے وابستہ ادارے معاونت اور حوصلہ افزائی سے گریز پا رہتے ہیں۔

انہیں سہولیات کے فقدان کی بھی شکایت ہے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے ڈرائنگ روم ہی کو تربیت گاہ بنائے رکھا اور مشق کرتی رہیں۔ ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

عامر خان

گزشتہ برس پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بتیسویں سال گرہ منائی۔ وہ آٹھ دسمبر کو پیدا ہوئے۔ وہ برطانیہ کے تیسرے کم عمر ورلڈ چیمپئن بنے۔

اس کھیل کا آغاز انہوں نے صرف 11 برس کی عمر میں کیا اور 2005ء میں باقاعدہ باکسنگ کیرئیر کا آغاز کیا۔ اپنے پہلے مقابلے میں ڈیوڈ برلے کے خلاف کامیاب قرار پائے۔

گزشتہ برس انہوں نے کولمبیا کے باکسر سیموئیل ورگاس کو شکست دی۔ یہ مقابلہ 36 منٹ جاری رہا۔ انہیں پوائنٹس کی بنیاد پر فاتح قرار دیا گیا اور تینوں ججوں نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس وقت تک وہ 37 میں سے 33 مقابلوں میں کامیابی حاصل کر چکے تھے۔

گزشتہ برس اپریل میں وہ دو سال بعد مقابلے میں شریک ہوئے اور حریف گریکو کو سامنے آتے ہی ڈھیر کر دیا۔ ان کے مُکوں کی بوچھاڑ کا مقابلہ حریف صرف 13 سیکنڈ ہی کر پایا اور گر گیا۔ جب اٹھا تو حملوں کی زد میں آیا اور پھر ڈھیر ہو گیا۔

یہ مقابلہ کل 40 سیکنڈ جاری رہا۔ عامر خان کے دو سال کے قریب باکسنگ سے وقفے کی وجہ لاس ویگس میں 2016ء میں سول کینیلوالواریز کے ہاتھوں شکست تھی۔

وہ ناک آؤٹ ہوئے اور اس ہار کا ان پر بہت اثر ہوا۔ انہوں نے جم کر محنت کی اور کھیل میں واپس آئے۔ وہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

پاکستان سے انہیں خصوصی انس ہے اور وہ یہاں آتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں کھیل کے فروغ کے لیے وہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

ثنا میر

32 سالہ ثنا میر کا نام طویل عرصے سے خواتین کرکٹ ٹیم سے جڑا ہے۔ وہ بہت سے بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیم کی رہنمائی اور ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ ان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔

ان کی سربراہی میں ملک کی کرکٹ ٹیم نے ایشیائی کھیلوں میں 2010ء اور 2014ء میں دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ 2008ء میں خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائیرز کے مقابلے میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز انہیں ملا۔

گزشتہ برس انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے خواتین کی ون ڈے رینکنگ جاری کی تو اس میں ثنا میر نے اول حیثیت پائی۔ مہندرا سنگھ دھونی، وقار یونس، جونٹی روڈز اور عمران خان ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ خواتین خوبصورتی کے مصنوعی معیارات کا پیچھا نہ کریں۔ ان کے مطابق کھیل کے میدان میں مقام بنانے کے لیے نرم و نازک ہاتھوں کی نہیں بلکہ مضبوط بازؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے 2005ء میں سری لنکا کے خلاف اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اس شعبے میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔

بشکریہ
(دنیا میگزین)

اپنا تبصرہ بھیجیں