دور جاہلیت میں بیٹی کو دفنا دیا جاتا تھا، آج زندہ درگور کیا جاتا ہے

تسنیم امجد ۔ریا ض
    عدنان والدین کا بہت لاڈلا بیٹا تھا ۔اس کے لاڈ ا ٹھاتے شیخ صاحب نہ تھکتے تھے ۔عر شیہ اور عدنان دو ہی بہن بھائی تھے ۔عر شیہ کو یہ دکھ تھا کہ ابا اور اماں ،دونوں ہی عدنان کا دم بھرتے تھے ۔اس کی تعلیم پر انہوں نے بھر پور توجہ دی ۔پڑ ھنے کے لئے اچھے سے اچھے سکول و کالج کا انتخاب کیا ۔وہ ذہین تھا ،اس لئے ہر سال اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہو تا رہا ۔شیخ صاحب نے اسے بھی اکا ﺅ نٹنٹ ہی بنایا ۔ان کے دفتر میں جگہ خالی تھی۔ ان کی خوا ہش تھی کہ وہ وہیں لگ جائے لیکن اس نے انکار کر دیا ۔اس کا شیخ صا حب کو بہت دکھ تھا لیکن وہ خاموش رہتے تھے ۔
    عر شیہ نے صرف ایف ایس سی ہی کیا تھا ۔مزید پڑ ھنے سے اسے روک دیا گیا ۔شاید اس لئے کہ انہیں یہ ا حساس شدت سے تھا کہ بیٹی کا وجود اس معاشرے میں بے معنی ہے ،یہ تو پرایا دھن ہے۔اس کے ا حساسات کا کسی کو کوئی انداز ہ نہیں اور نہ ہی اندازہ لگانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔والدین اسے پرایا جا نتے ہوئے اس پر خر چہ کرنے سے گھبراتے ۔عدنان جب والدین کے سامنے زبان کھولنے لگا تو وہ اسے بھی اس کی محبت کا ایک انداز ہی سمجھتے ۔شیخ صاحب بیمار رہنے لگے ۔انہیں دمے کی تکلیف نے بے حال کر دیا تھا۔
    ایک دن گھر میں کچھ مہمان باباکی بیمار پرسی کے لئے آ ئے ،ان کی مو جو دگی میں ابا پر کھانسی کا دورہ پڑا۔اس کی وجہ عدنان ہی تھا ۔وہ اس سے کسی مو ضو ع پر بات کر رہے تھے ۔نہ جانے انہوں نے کیا کہا کہ عدنان بد زبانی پہ ا تر آ یا ۔بد زبان،بے ہودہ ،نا خلف،ابازور زور سے بول رہے تھے ،پھر انہیں کھا نسی کا دورہ پڑااور ان کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا ۔عدنان اس صورتِ حال سے بے خبرغصے میںبڑ بڑاتا ہوا گھر سے با ہر جا چکا تھا ۔سب کو ابا کی فکر ہوئی ۔ان کی تد فین کی گئی ۔
    ماں کو ایک تو بابا کا غم ،دوسرا بیٹے کی جدائی کا اور تیسرا برادری کے سامنے ناک کٹنے کا ۔وہ نڈ ھال پڑی عدنان کی سلامتی اور وا پسی کی دعا ئیں کر رہی تھیں ۔عر شیہ یہ سب دیکھ کر سوائے آ نسو بہانے کے ،کیا کر سکتی تھی ۔اسے افسوس تھا کہ عدنان نے والدین کی محبتوں کا مان نہیں رکھا ۔اماں کی صحت دن بدن گر رہی تھی ۔ان کا علاج کراتے اور انہیں حو صلہ دیتے دیتے وہ بے حال ہو چکی تھی۔اس کے لئے اب رشتے آ نا شروع ہو گئے تو اس نے اماں کو سختی سے کہہ دیا کہ وہ ابھی شادی کے لئے تیار نہیں۔اسے یہ فکر لگی تھی کہ اب گھر کیسے چلے گا۔
    بیٹیوں کے لئے بہت سے اشعار کہے گئے جو ان کی وفاﺅں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ”بیٹیاں وفاﺅں جیسی ہوتی ہیں،
تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں،چھا ﺅ ں جیسی ہو تی ہیں،ان کہی صدا ﺅں جیسی ہوتی ہیں“۔ عرشیہ ملازمت کے لئے ادھر ادھر چکر لگانے لگی لیکن اس کی تعلیم جگہ جگہ آ ڑے آ جاتی ۔کاش اسے بابا نے بی اے ہی کرا دیا ہوتا ۔وہ اماں سے چھپ چھپ کر روتی ۔آ خر قریب کے ایک اسکول میں اسے آ یا کی ملازمت مل گئی۔اس کی ڈیوٹی، دفتر اور میڈم کے آ فس کے درمیان رابطہ اور ڈاک کی تر سیل تھی ۔پر نسپل نے کہا کہ انہیں ایف اے پاس ہی چا ہئے۔ایک بڑے باپ کی بیٹی کے لئے یہ کام بہت مشکل تھا لیکن اسے مجبو راًکرنا پڑا کیو نکہ گھر بار بھی چلانا تھا ۔اماں سے کہا کہ اسے اسکول میں ٹیچنگ کی جاب مل گئی ہے ۔اماں نے بہت دعائیں دیں ۔عر شیہ نہیں چا ہتی تھی کہ اس کی کسی بات سے اماں کو تکلیف پہنچے ۔
    ہمیں عر شیہ کوئی10 برس بعد ملی ۔وہ پہچانی نہیں جا رہی تھی ۔بہت دبلی ہو چکی تھی ۔ہم اسے گھر لے آ ئے ،پہلے تو وہ ہمارے کندھے سے لگ کر بلک بلک کر رونے لگی ۔پھر بولی کہ مجھے اسکول والوں نے اسکول کے اندر ہی کمرہ دے دیا ہے ۔اماں کی وفات کے بعد میرا اکیلے رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔مجھے آج برسوں کے بعد تآپ کا کاندھا ملا ہے ۔میں تو اب روتی بھی نہیں ۔سب کہتے ہیںکہ اس سے والدین کو تکلیف ہوتی ہے ۔دیر تک ہماری باتیں ہوئیں ۔اس نے بتایا کہ عدنان کا فون آ یا تھا۔ وہ ابو ظبی سے بول رہا تھا ۔میرا دل تو چاہا کہ اس کا فون نہ سنوں لیکن اندر کی بہن نے فون بند نہ کرنے دیا ۔وہ بہت خوش تھا ۔شادی رچا چکا تھا ۔کہنے لگا کہ والدین کے نام کی مسجد بنواﺅں گا۔پھر رابطہ کرنے کا کہہ کر فون بند کر دیالیکن مجھے اب کوئی خواہش نہیں تھی۔منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ کریم تمہیں بہت خوش رکھے ۔
    قارئین! یاد ماضی کے اوراق ہمیں اکثر اپنی کا تا ہیوں کا احساس دلاتے ہیں ۔آج کا ورق ان والدین کے نام ہے جو بیٹیوں کو پرایا جانتے ہوئے ان کے ساتھ سلوک بھی ویسا ہی کرتے ہیں ۔آج عر شیہ کو اس کے والدین نے تعلیم دلائی ہوتی تو وہ یقیناکسی ایسے مقام پر ہوتی جو اسے کر چی کر چی نہ کرتا۔اس کی نظریں نہ جھکتیں ۔وہ فا ئلوں کا پلندہ سر پر ا ٹھا کر نہ چلتی ۔کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن کیا کہیں ان والدین کو جو اولادِ نرینہ کو ہی اپنا سب کچھ جا نتے ہیں ۔بیٹے کی پیدائش ہی بہو کے لئے اعزاز قرار پاتاہے ورنہ اسے بھی جلی کٹی سننی پڑتی ہیں۔کیا آج بھی ہم دورِ جا ہلیت میں ہی جی رہے ہیںجہاں بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دیا جاتا تھا ؟اب دفناتے تو نہیں لیکن ان کو زندہ درگور ضرور کر دیتے ہیں ۔
    ہمیں ایک بچی کا کہنا یاد آ یاتو بے ختیار رو دیئے، وہ اپنی سہیلیوں سے کہہ رہی تھی کہ اللہ کریم مجھے بھائی دے دے ورنہ میری ماما کو دادی گھر سے نکال دیںگی ۔کاش! یہ لوگ بیٹی کی اہمیت سمجھیں ۔اس کے سامنے تو کو ہِ نور کی چمک بھی ما ند ہے ۔
ان کو آ نسو بھی جو مل جا ئیں تو مسکاتی ہیں
بیٹیاں تو بڑی معصوم ہیں ،جذ باتی ہیں
لوگ بیٹوں سے ہی رکھتے ہیںتو قع لیکن
بیٹیاں اپنی برے وقت میں کام آ تی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں