دہری شہریت والے سرکاری ملازمین پاکستان کے لیے خطرہ قرار

لاہور: عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں دہری شہریت کے حامل ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کریں اور اس حوالے سے پارلیمنٹ غیر پاکستانیوں کو عہدے دینے پر مکمل پابندی سے متعلق واضح فیصلہ جاری کرے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سرکاری ملازمین کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کیس کا فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پڑھ کر سنایا جسم میں قرار دیا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ ہیں۔
چیف جسٹس کے سنائے گئے فیصلے کے مطابق ملازمت کے دوران کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو دہری شہریت کے حامل ملازمین کی فہرستیںمرتب کرکے ان کے نام منفی فہرست میںڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ملازمین کو ڈیڈ لائن دیں اور ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ دہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کے لیے جلد از جلد قانون سازی اور دیگر اقدامات کرے۔ غیر پاکستانیوں کو ملکی عہدے دینے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے تاہم ضروری حالات میں کسی غیرپاکستانی کو عہدہ دینے سے قبل متعلقہ کابینہ سے منظوری لی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں