دہشتگردوں کیخلاف حوصلے پست ہوئے نہ کبھی ہوں گے: ثناء اللہ زہری

اللہ نے ہمیں بڑی تباہی سے بچایا ہے، کوئٹہ چرچ حملے میں پولیس نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا: وزیراعلیٰ بلوچستان کی میڈیاسے گفتگو

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے کہا ہے اللہ نے ہمیں بڑی تباہی سے بچایا ہے، بروقت کارروائی کرنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کو شاباش دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا اگر دہشت گرد چرچ کے اندر داخل ہو جاتے تو زیادہ نقصان ہوتا، چرچ میں 400 لوگ موجود تھے۔

ثناء اللہ زہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پولیس نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، ایک دہشت گرد کو گیٹ پر ہی مار دیا گیا، ہو سکتا ہے دوسرے دہشت گرد نے گولی لگنے پر خود کو اڑایا ہو۔ ان کا کہنا تھا دہشت گردوں سے نمٹنا پولیس کا کام ہے، پولیس کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، ایک نوجوان نے درخت کی آڑ میں دہشتگرد کا مقابلہ کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا فورسز کے مورال کو مزید بلند کریں گے، دہشت گردوں کے خلاف کبھی حوصلے پست ہوئے نہ کبھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا بلوچستان کو دہشتگردی سے پاک کر کے پر امن بنائیں گے، فورسز کا مورال بلند ہے، جتنی ضرورت ہو اس کے مطابق اسلحہ بھی دیا جائے گا۔ ثنا اللہ زہری نے چرچ حملے کے متاثرین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا جاں بحق ہونے والوں کے لیے 10 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ دیں گے جبکہ مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے اپنی طرف سے 15 لاکھ روپے انعام دوں گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا گیٹ پر لڑنے والے اہلکار کے لیے صدارتی ایوارڈ کی سفارش کروں گا۔

خیال رہے زرغون روڈ پر ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ پر 2 دہشتگردوں نے اتوار کی دوپہر بارہ بج کر 2 منٹ پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں دعائیہ تقریب جاری تھی، اس وقت چرچ میں مشنری اسکول کے 100 سے زائد طلبا بڑی تعداد میں موجود تھے جو اپنے پروگرام کی تیاری کیلئے آئے تھے۔

دہشتگردوں نے چرچ کے اندر جانے کی کوشش کی تو چوکیدار نے دروازہ بند کر دیا، جس پر ایک دہشتگرد گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوا تو گیٹ کے اندر موجود چوکیدار کو اس نے خنجر کا وار کر کے زخمی کر دیا، اسی دوران عبادت گاہ کے مرکزی ہال پر تعینات دو میں سے ایک بہادر پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے دہشتگرد کو مار ڈالا، اسی دوران دوسرا دہشتگرد بھی احاطے میں داخل ہوگیا، اسی وقت مرکزی عبادت گاہ میں موجود افراد نے دوسری طرف موجود دروازے سے باہر نکلنا شروع کر دیا،احاطے میں موجوددوسرا دہشت گرد کئی منٹ تک عبادت گاہ سے نکلنے والے افرا د کو نشانہ بناتا رہا۔

اسی اثنا میں دوسرے دہشتگرد نے مرکزی دروازے کے بالکل قریب پہنچ کر خود کو اڑالیا جس سے افراتفری مچ گئی، لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے، زد میں آئے متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہوگئے۔ حملے کے آغاز سے ہی دہشتگردوں کا ایک سہولت کار فرار ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں