روئی کی قیمتوں میں مندی ، 7 ہزار روپے فی من تک گرگئیں

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر’یو ایس ڈی اے‘کی جانب سے دنیا بھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ جبکہ کھپت کم ہونے کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان نظر آرہا ہے۔

روئی کی قیمتیں 150روپے فی من مزید مندی کے بعد7 ہزار50 روپے فی من تک گر گئیں،دھاگے کی قیمتوں میں بھی شدید مندی کے رجحان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان اور کاٹن جنرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مسلسل مندی کے رجحان اور روئی کی درآمد ڈیوٹی فری ہونے کے باعث پاکستان میں پچھلے 2 ہفتوں کے دوران روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ ایک ہزار روپے فی من تک کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ مزید مندی کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق کاٹن ائیر2017-18کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 4 لاکھ بیلز زیادہ جبکہ کھپت 3 لاکھ 60 ہزار بیلز کم ہوںگی۔

قبل ازیں رواں سال دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں کم جبکہ کھپت زیادہ ہونے بارے رپورٹس جاری کی گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باعث پورے پاکستانی سیکٹر میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں