زاہد حامد کے استعفیٰ پر ساتھیوں کو شہباز شریف اور کیپٹن صفدر نے قائل کیا

لاہور (سہنرا دور آن لائن) اسلام آباد فیض آباد انٹرچینج پر 22 روزہ دھرنے کا گزشتہ روز ڈراپ سین ہو گیا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ اور حکومت کے درمیان ڈرامائی مذاکرات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نمائندے کی حیثیت سے میجر جنرل فیض حمید نے شرکت کی جس کا باضابطہ اعلان تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی نے کیا۔ قبل ازیں حکومتی صفوں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے ساتھیوں کو قائل کیا کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سے بحران حل کرنے میں مدد ملے گی تاہم حکومتی صفوں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کا آئینی اختیار نہیں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بالآخر مذاکرات میں فوج کے کردار کو بادل نخواستہ قبول کر لیا گیا۔ ادھر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے وزیر قانون زاہد حامد کو استعفے پر آمادہ کرنے کی ذمہ داری اٹھائی، حکومتی صفوں میں پہلے اکثریت کی رائے تھی کہ زاہد حامد کا کوئی قصور نہیں پارلیمانی کمیٹی نے قانون کا مسودہ بنایا، پارلیمانی کمیٹی میں لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے اور پارلیمنٹ سے سب نے اسے منظور کیا سو زاہد حامد کو مستعفی نہیں ہونا چاہئے۔ گزشتہ روز بالآخر وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیرقانون زاہد حامد کے درمیان ملاقات میں میاں شہباز شریف نے ان کے استعفے کی بات کی تو زاہد حامد نے کہا کہ وہ پہلے بھی رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دینے کیلئے تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں سو ان کی طرف سے استعفیٰ دے دیا گیا جسے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسعفیٰ منظور کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں