زینب قتل کیس: ملزم عمران کے جیل ٹرائل کا فیصلہ، روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی

لاہور (سنہرادور آن لائن): زینب قتل کیس کی سماعت کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں سپیشل سیل بنا دیا گیا ہے جبکہ 174 صفحات پر مشتمل مکمل چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس میں چالان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی۔

زینب قتل کیس کے ملزم عمران کو سخت سیکیورٹی میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں لایا گیا۔ پراسیکیوشن نے تفتیش مکمل کر کے 175 صفحات پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کرا دیا جس میں ملزم عمران کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے زینب سمیت 8 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم عمران کا ٹرائل جیل میں کیا جائے اور اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا منظور کر لی۔

عدالت اب مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق سات روز میں فیصلہ سنائے گی جبکہ ملزم عمران کے دفاع کیلئے ایڈووکیٹ مہر شکیل کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے زینب کے سفاک قاتل کو 14 روز بعد گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم عمران علی کی ڈی این اے سے تصدیق کی گئی، سیریل کلر نے جرم کا اعتراف کیا۔ زینب اور ملزم کے اہلخانہ کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا، ملزم بچی کو اکثر باہر لے جایا کرتا تھا، زینب کے قتل کے بعد قصور میں ہنگاموں کے دوران ملزم پہلے پاکپتن فرار ہوا اور پھر وہاں سے عارف والا چلا گیا تھا۔ ملزم نے پہلی واردات جون 2015 میں کی تھی، زیادتی کے بعد قتل کی جانیوالی بچیوں کی عمر 4 سے 9 سال تھی۔ متاثرہ بچیوں میں تہمینہ، عائشہ، عاصمہ، لائبہ، زینب، کائنات، ایمان فاطمہ اور نور فاطمہ شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں