زینب قتل کیس میں سپریم کورٹ کا از خود نوٹس، جے آئی ٹی طلب

پوری قوم اس واقعہ پر دکھی ہے، بتایا جائے کیا پیشرفت ہوئی ہے، ابھی تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی: چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

اسلام آباد: (سنہرادور آن لائن) زینب قتل از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم، فرانزک لیب لاہور کے سربراہ اور مقدمے میں پیشرفت رپورٹ ہفتے کو طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجرم کی عدم گرفتاری کی ذمہ دار پولیس اور حکومت ہوگی، موثر قانون سازی نہ ہونا بدقسمتی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت سے روک دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ قصور واقعہ پر 1100 افراد زیرتفتیش، 400 کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوچکاہے، ایسا ہی واقعہ کائنات نامی بچی کے ساتھ پیش آیا، اسکی زندگی تو بچ گئی لیکن وہ بول نہیں سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سانحہ قصور کے بعد ملک کی ہر ماں فکر مند ہے، والدین کو صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں لیکن کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ناقص تفتیش سے لوگ بری ہوجاتے ہیں،عدالتی فیصلے ان نقائص کی نشاندہی کر رہے ہیں، یہ کیس پولیس کیلئے ایک امتحان ہے، کوئی دباؤ ڈالنے کی بجائے اصل مجرم کی گرفتاری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے طیبہ اور زینب کیساتھ پیش آئے واقعات کی روک تھام کا قانون نہیں بنایا گیا، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے ملاقات کی درخواست کی ہے، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان اجنبیت ختم کرنا چاہتے ہیں، قانون میں نقائص دور کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قصور میں بچوں سے زیادتی کے مقدمات بھی سماعت کیلئے لگا رہے ہیں، زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت 20 جنوری کو لاہور رجسٹری میں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں