زینب کے قاتل عمران کے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات جے آئی ٹی کے سپرد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں 7 سالہ زینب و دیگر بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم محمد عمران کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس کے متعدد بینکوں میں اکاؤنٹس موجود ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم محمد عمران کے متعدد بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں جن میں فارن کرنسی اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس خبر کا نوٹس لے لیا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے زینب قتل کیس میں ملوث ملزم عمران کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے ایک میڈیا میں چلنے والی خبروں میں لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ہدایات جاری کردی ہیں اور کہا ہے کہ اس حوالے سے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب حکومت نےاس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق زینب قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی پولیس کی سربراہی میں پہلے سےقائم جے آئی ٹی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے اور ڈی جی فرانزک سائنس لیبارٹری کوبھی شامل کرلیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں جے آئی ٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایک میڈیا ہاؤس کے پروگرام میں لگائے گئےاس الزام کی تحقیقات کرکے رپورٹ دے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم عمران کے متعدد بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں جن میں فارن کرنسی اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں پولیس کے سامنے زینب کے قاتل کے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، ملزم نے بچیوں سے زیادتی اور قتل کرنے کے تمام مقامات کی نشاندہی کردی ہے۔

ملزم محمد عمران نے کہا ہے کہ اس جرم میں نہ کوئی سہولت کار تھا نہ کوئی ساتھی اور نہ ہی اس نے کسی بینک میں کبھی کوئی اکاؤنٹ کھولا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ زینب کے قاتل محمد عمران کے بے شمار بینک اکاؤنٹس کی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقتور لوگ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث ہیں۔

عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد بچوں کے ساتھ زیادتی میں مضبوط اور منظم گروہ کے آثار مل رہے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ملزم کے متعدد بینک اکاؤنٹس سے متعلق خبریں منظر عام پر آنے کے بعد یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں طاقتور لوگ ملوث ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس میں بے شرمی کا مظاہرہ کیا اور اسے زمین کا جھگڑا قرار دے کر بند کرا دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط جے آئی ٹی زینب قتل کے ملزم کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے انکشافات کے ساتھ قصور کے ویڈیو اسکینڈل کی بھی تحقیقات کرے۔

عمران خان نے کہا کہ جس طرح سے ملزم محمد عمران کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے تضاد پیدا کیا جا رہا ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں سنسنی خیزی پھیلانے سے باز رہتے ہوئے معتبر جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ ننھی زینب اور قصور کے دیگر بچوں کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعات کی تحقیقات کر سکے۔

رانا ثناء اللہ کی عمران خان کے الزامات کی تردید
عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یقیناً چیئرمین تحریک انصاف کو کسی نے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے بتایا ہو گا جس پر انہوں نے اعتبار کر لیا، خان صاحب پہلے بھی اس طرح کرتے رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے زینب قتل کیس کی جے آئی ٹی میں اسٹیٹ بینک اور نیب حکام کو شامل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے الزمات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ اگر عمران خان کے پاس وقت ہے تو وہ قصور ویڈیو اسکینڈل کی جے آئی ٹی رپورٹ ضرور پڑھ لیں، عمران خان الزام لگاتے ہیں لیکن جب غلط ثابت ہوتا ہے تو معذرت بھی نہیں کرتے۔

زینب قتل کیس میں وفاقی وزراء اور اہم شخصیات کے ناموں کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم محمد عمران اکیلا ہی اس میں ملوث ہے اور اس واقعے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔

اکاؤنٹس کی موجودگی کا دعویٰ سراسر غلط ہے، بینک حکام
بعض میڈیا سیکشنز کم سن بچی زینب کے قاتل کے 37 بینک اکاؤنٹس موجود ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس کا نوٹس لیا جبکہ شہباز شریف نے انکوائری کا حکم دے دیا،عمران خان بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن بعض بینکوں کے حکام کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر آنے والا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔

مختلف بینکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے بینکوں میں ملزم محمد عمران کا کوئی اکاؤنٹ نہیں، سوشل میڈیا پر چلنے والی فہرستیں مختلف بینکوں میں چیک کیے گے ملزم محمد عمران کے شناختی کارڈز کا ’لاگ ڈیٹا‘ ہے۔

گزشتہ شب میڈیا کے بعض سیکشنز پر زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم محمد عمران کے حوالے سے مختلف دعوے کیے گئے جن میں کہا گیا کہ کم سن بچی زینب کا قاتل ایک بڑے مافیا کا حصہ ہے، اس کے ساتھ ایک وفاقی وزیر اور ایک دوسرا شخص بھی شامل ہے، ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔

ان دعووں کو بعض دیگر میڈیا سیکشنز نے بھی رپورٹ کیا اور پھر سوشل میڈیا پر اس پر بحث کا آغاز ہوا، ساتھ ہی ملزم عمران سے متعلق کچھ بینکوں کی تفصیلات پر مبنی دستاویزات بھی سوشل میڈیا پر چل نکلیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے کا نوٹس لیا وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کے لیے معاملہ پہلے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سپرد کیا اور تحریک انصاف کے چیئرمین نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران مذکورہ دعوے کرنے والے نجی ٹی وی کے اینکر نے پیش ہو کر دستیاب معلومات عدالت کے سامنے پیش کیں تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سچ سامنے آنے پر سب کی پریشانی دور ہو گی، چیزوں کی مرحلہ وار تصدیق کرائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں