سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار ملازمت سے ریٹائرڈ ہوگئے

راؤانوار 1982ء میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے، جبکہ 37 سالہ مدت ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں،نقیب اللہ قتل کیس میں بھی راؤ انوار ملوث ہیں

کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کے ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار ملازمت سے ریٹائرڈ ہوگئے ہیں، راؤانوار 1982ء میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے، جبکہ 37سالہ ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں پولیس مقابلوں سے شہرت حاصل کرنے والے سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوارملازمت سے ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔
راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلوں کا پول اس وقت کھلا جب انہوں نے ایک نہتے شہری نقیب اللہ محسودکو پولیس مقابلے میں قتل کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ آج سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائرڈہوگئے ہیں۔راؤانوارنے پولیس میں1982ء میں بطور اے ایس آئی ملازمت کا آغازکیا۔انہوں نے محکمہ پولیس میں 37سال ملازمت کی۔

تاہم پچھلے سال نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث ہونے کے باعث انہیں پولیس میں کسی عہدے پر تعینات نہیں کیا گیا تھا۔

وہ پچھلے سال سے نقیب اللہ قتل کیس میں عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔حکومت نے سپریم کورٹ کے حکامات کے پیش نظرراؤانوار کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا ہوا ہے۔ واضح رہے کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث اور نقیب اللہ محسود قتل کیس کے ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی استدعا کردی ہے۔راؤانوار نے سپریم کورٹ میں جمع درخواست میں مئوقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ سے قانون کے مطابق ضمانت پر رہائی حاصل کی ہے۔
ٹرائل کورٹ کے حکم پر میرا پاسپورٹ ضبط کیا گیا ہے۔ کیا قانونی کارروائی کے دوران شہری ہونے کے ناطے میری آمدورفت کومحدود کیا جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے 23 جنوری 2018ء کے حکم کے بعد نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ درخواست گزار سابق ایس ایس پی راؤانوار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمرہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس کے باعث میرا ای سی ایل سے نام نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میرے بچے ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں۔ مجھےاورمیری فیملی کو جان کا خطرہ ہے۔ اس لیے ان کا پاکستان آنا ممکن نہیں وہ پاکستان نہیں آسکتے۔ لہذا ای سی ایل سے نام نکالتے ہوئے مجھے عمرے کیلئے جانے کی اجازت دی جائے۔ راؤ انوار نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ہرپیشی پرپیش ہوتا رہتا ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں میرے کیس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔
بیان حلفی دیتا ہوں کہ ملک سے باہرہونے کے باوجود میں ٹرائل کورٹ کی کاروائی کے دوران پیش ہوتا رہوں گا۔ میرے بیرون ملک جانے سے ٹرائل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ میرا نام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات صادر کرے۔ راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں جمع درخواست میں وفاقی حکومت اورسندھ حکومت کو فریق بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں