سال 2017 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے عوام پر بھاری رہا

لاہور: ایک سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سیاسی پارے میں تبدیلی کے حساب سے بڑھتی اور گھٹتی رہیں۔

سیاسی ہلچل میں اضافے پر قیمتوں میں استحکام یا کمی اور حالات میں بہتری کے ساتھ ہی قیمتوں میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ ایک سال کے دوران غریب یا متوسق طبقے کے استعمال میں آنے والا موٹر سائیکل کا ایندھن لگ بھگ 10 روپے مہنگا ہو گیا، پیٹرول کی قیمت 66 روپے 77 روپے فی لیٹر تک پیہنچ گئی۔

سال 2017 میں مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والا ایندھن بھی تقریبا 10 روپے ہی مہنگا ہو گیا، ڈیزل کی قیمت 75 روپے سے بڑھ کر 85 روپے تک جا پہنچی جس کے باعث اشیاء خوردونوش سمیت کرایوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غریب آدمی کا چولہا جلانے والا ایندھن یا مٹی کا تیل ایک سال کے دوران 9 روپے مہنگا ہوا، مٹی کے تیل کی قیمت 43 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 52 روپے تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب سال 2016 کے مقابلے سال 2017 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 1 سے دو روپے ہی اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا۔

مگر ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے چلیں کہ خطے کے دیگر ممالک جن میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت شامل ہیں پیٹرول کی قیمت پاکستان میں ان تینوں ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ بنگلا دیش میں پیٹرول 86 ٹکا فی لیٹر، سری لنکا میں 117 روپے لیٹر اور بھارت میں 76 روپے فی لیٹر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں