سال 2017 کا پاکستان: 10 اہم ترین عدالتی مقدمات اور فیصلے

ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے مذکورہ10مقدمات کی سماعت کےدوران اہم فیصلے سنائے، جن کو سراہا بھی گیا اور ان پرتنقید بھی کی گئی۔سال 2017 میں پاکستانی میڈیا کی شہ سرخیوں میں عدالت میں زیر سماعت مقدمات اور ان کے فیصلے ہی چھائے رہے، اور اسی دوران اگر کسی ایک نے عدالت کے کردار کو سراہا تو دوسرے نے اس پر تنقید بھی کی جبکہ ان فیصلوں سے ملک کے سیاسی اور معاشرتی منظر نامے پر کافی تبدیلیاں رونما ہوئی۔

ایسے ہی ایک مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ ملک میں دو مختلف رائے عامہ کو سامنے لایا، جب جولائی میں عدالت عظمیٰ نے پاناما پیپرز لیکس کیس کا فیصلہ سنایا اور اس وقت کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا، جسے ایک جانب سراہا گیا تو دوسری جانب اس پر کڑی تنقید بھی ہوئی۔

سال 2017 میں دیئے جانے والے عدالتی فیصلوں پر متنازع ہونے کا بھی الزام لگایا گیا جس کے بعد ملک میں میڈیا اور معاشرے میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا، جس میں ایک طبقہ جہاں ان فیصلوں کو آئین اور قانون کے مطابق تصور کرتا تھا تو وہیں دوسرا طبقہ اسے مخصوص افراد کے خلاف کارروائی تصور کرتا۔

2017 کا سال جہاں دیگر اہم اور متعدد مقدمات کے حوالے سے اہم ہے، وہیں اس میں پاناما پیپرز لیکس کیس کا فیصلہ بھی سنایا گیا جس کی سماعت کا آغاز نومبر 2016 میں ہوا تھا۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ میں شامل ججز کے 30 اپریل کو دیئے گئے عبوری فیصلے کی روشنی میں پاناما پیپرز کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔

بعد ازاں 28 جولائی کو بینچ نے مذکورہ کیس میں اپنا دوسرا اور حتمی فیصلہ سنایا جس میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 (1)(ایف) کے تحت انہیں نا اہل قرار دیا تھا۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ نواز شریف نے متحدہ عرب امارات سے ان کو حاصل اقامہ کا اعلان نہیں کیا تھا جہاں انہیں اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے 10 ہزار درہم تنخواہ بھی جاری کی جارہی تھی، جس کے باعث وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اپنی نوعیت کے پہلے فیصلے کو حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور ان کے حامیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا اور سوالات اٹھنے لگے کہ نواز شریف کو کن وجوہات پر نا اہل قرار دیا گیا؟تاہم کچھ نے اس فیصلے کو ملک میں ایلیٹ کلاس کے احتساب کے عمل میں پیش رفت قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہا۔

سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز لیکس کیس کے ٖمذکورہ فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کامیابی قرار دیا گیا، کیونکہ فیصلہ سامنے آنے سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کے خلاف درخواست پر مبینہ طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے نومبر 2016 میں عمران خان اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

3 مئی کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت شروع کی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے، جو آمدنی ٹیکس آرڈیننس 1979 اور پیپلز ایکٹ 1974 کی مبینہ خلاف ورزی ہے، درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈڈ پارٹی ہے۔مقدمے کی 50 سے زائد سماعتوں کے بعد بینچ نے 14 نومبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا، جسے ایک ماہ بعد سنایا گیا۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 62 کی شق ایک ایف کے تحت جہانگیر ترین کو بدنیت پایا اور پیپلز ایکٹ کی نمائندگی (آر او پی اے) کے سیکشن 99 کے تحت متعدد الزامات ان پر ثابت ہوئے۔آرٹیکل 62 کی اسی شق کے ذریعے کچھ ماہ قبل نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف دائر نااہلی کی درخواست کو مسترد کیا، یہ فیصلہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی کامیابی تھی جس کے بعد وہ آزاد ہوگئے تھے جبکہ کچھ ماہ قبل ان کے سیاسی حریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور عمران خان کو کلین چٹ دینے کو دوہرا معیار قرار دیا۔

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہ بینظیر بھٹو کے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کے تقریباً ایک دہائی بعد انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 31 اگست کو مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا تھا اور ان کا نام اس مقدمے میں 2011 میں شامل کیا گیا تھا تاہم وہ اس مقدمے کی ٹرائل میں عدالت کے سامنے حاضر ہونے میں ناکام رہے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 5 مشتبہ افراد کو قتل کے الزامات سے بری کیا جبکہ دو پولیس حکام سعود عزیز اور خرم شہزاد کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ان دونوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ سیکیورٹی انتظامات میں غفلت کے مرتکب ہوئے تھے، جس کے باعث بینظیر بھٹو کی ہلاکت ہوئی۔

اس مقدمے کا فیصلہ، جس پر متنازع تحقیقات اور سماعتوں کا الزام لگایا جاتا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے مسترد کردیا گیا اور کئی حلقوں کی جانب سے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے کچھ ہفتوں بعد 18 ستمبر کو پیپلز پارٹی نے اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنچ کیا جبکہ پارٹی نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران مقدمے کی کچھ خاص انداز میں پیروی نہیں کی تھی۔

20 سالہ مقتول شاہ زیب خان کی پانچویں برسی سے ایک روز قبل ڈسٹرک اینڈ سیشن کورٹ نے شاہ زیب قتل میں نامزد مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے تین ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کردیا۔

شاہ زیب خان کے والد نے کورٹ کو بتایا کہ ملزم کی فیملی نے معافی مانگ لی ہے اس لیے کورٹ ان کے خلاف کیس کو ختم کردے جس کے بعد جتوئی، ساجد علی تالپور، سیراج علی تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

شاہ رخ جتوئی نے معمولی تنازع پر شاہ زیب خان کو چار گولیاں مار کر قتل کردیا تھا، واردات کے فوراً بعد ملزم دبئی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

سابق چیف جسٹس افتخاری محمد چوہدری نے شاہ زیب قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد مفرور ملزم شاہ رخ جتوئی کو دبئی سے گرفتار کرکے جنوری 2013 کو کراچی لایا گیا۔

بعدازاں اگلے برس ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ رخ جتوئی کا جرم ثابت ہونے پر اس کو سزائے موت سنا دی۔

رواں برس نومبر میں سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی کے کیس پر دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا اور شاہ زیب قتل کیس کو ڈسٹرک اینڈ سیشن میں منتقل کردیا تھا ایک ہفتے بعد ہی، ملزم کو ضمانت مل گئی۔

ملزم کی ضمانت کا لمحہ مقتول شاہ زیب خان کے ان چاہنے والوں کے لیے انتہائی کرب والا تھا جنہوں نے انصاف کے لیے سڑکوں کا رخ کیا تھا اور کیس کی مکمل پیروی کی تھی۔

خیال رہے کہ ایک جانب شاہ زیب خان کی بہن کے ولیمے کی تقریب جاری تھی دوسری جانب شاہ زیب خان کو قتل کرنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جبکہ پانچ برسوں سے شاہ زیب قتل کا کیس انصاف کی منتظر تھا۔ملزم کے خلاف الزامات پر سماعت ابھی جاری ہے۔

پاناما لیکس کیس پر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے 8 ستمبر 2017 کو نوازشریف، ان کے تین بچوں اور داماد کے خلاف تین ریفرنسز دائر کئے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) نے شریف خاندان کے بیرون ملک کاروبار سے متعلق تحقیقات کیں جس کی بنیاد پر نیب نے ریفرنس دائر کیے۔

پہلے شریف خاندان کے افراد نے تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا لیکن جب عدالت نے ان کی عدم پیشی پر گرفتار وارنٹ جاری کرنے کی تیاری کی تو سابق وزیراعظم نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے لیکن ان کی پیشی میں حاضری مستقل نہیں تھی۔

بالآخر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو کورٹ میں پیش ہونا پڑا لیکن کورٹ نے حسن اور حسین نواز کی مسلسل عدم پیشی پر انہیں مفرور قرار دے دیا۔

مریم نواز نے کورٹ میں اپنے بھائیوں کے حق میں جواز پیش کیا کہ ‘میرے بھائی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اور یہاں (پاکستان) کے قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے’۔

سست روی سے زیر سماعت کیس میں عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور صفدر پر لندن میں قائم ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں فرد جرم عائد کی جبکہ عدالت نے 31 اکتوبر کو نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی فرد جرم عائد کی۔

نیب کی جانب سے عدالت میں دو گواہان پیش کرنے کے بعد 15 نومبر 2017 کو نواز شریف، مریم نواز اورصفدر کے خلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

نواز شریف اور مریم نواز نے متعدد مواقعوں پر اس خیال کو قطعی مسترد کیا کہ شریف خاندان کا ریفرنس میں احتساب سے متعلق کچھ لینا دینا ہے۔ایک سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے اعلان کیا تھا کہ ‘اب سب کچھ انتقام میں بدل چکا ہے’۔

شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز کے علاوہ نیب نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے خلاف ایک ریفرنس بھی دائر کیا۔27 ستمبر کو احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

کچھ روز بعد اسحٰق ڈار عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ وہ علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں، لہٰذا ان کو عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دی جائے تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

بعد ازاں عدالت سے مسلسل غیر حاضری پر 14 نومبر کو اسحٰق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور 11 دسمبر کو انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

اسحٰق ڈار کی بیرون ملک موجودگی کے باعث وزارت خزانہ مکمل طور پر بے ترتیبی کا شکار رہی، جس کے بعد 22 نومبر کو بالاخر حکومت نے اسحٰق ڈار سے وزیر خزانہ کا پورٹ فولیو واپس لے لیا۔واضح رہے کہ اسحٰق ڈار ابھی بھی لندن میں ہی موجود ہیں۔

سال 2017 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کی گئیں، جس میں ایک درخواست نے عوام کی دلچسپی حاصل کی۔

یہ درخواست تحریک انصاف کے سابق رکن اکبر ایس بابر نے 23 جنوری کو جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے انتخابی ادارے کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کی۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف کے خلاف ایک اور مقدمے میں عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا تھا، یہ مقدمہ بھی اکبر ایس بابر کی جانب سے 2014 میں دائر کیا گیا تھا، جس پر الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے پر عمران خان کو رسمی طور پر توہین کا نوٹس جاری کیا گیا۔

درخواست دائر کرنے سے ایک ہفتے قبل عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن میں غیر مشروط معافی کی درخواست دی تھی، اس وقت تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا تھا کہ یہ معافی وکیل نے ذاتی حیثیت میں جمع کرائی تاہم ایک ماہ بعد 25 ستمبر کو عمران خان نے اس معافی کو قبول کرلیا تھا۔

12 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے توہین کے الزامات پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے جبکہ اس سے قبل متعدد مرتبہ ای سی پی نے انہیں طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

26 اکتوبر کو عمران خان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور انہیں تحریری معافی جمع کرانے کا کہا گیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ اور ان کے وکیل نے معافی تحریر کی اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائی، تاہم کمیشن نے ایک مرتبہ پھر ان کی معافی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور عمران خان نے دوسری مرتبہ معافی تحریر کی۔اس دن کے بعد ان کے خلاف الزامات کو ختم کردیا گیا۔

5 دسمبر کو جب لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو 2014 میں ماڈل ٹاؤن کے پرتشدد سانحے، جس میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری کے 14 حامی ہلاک ہوگئے تھے، پر جسٹس باقر نجفی کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تو پنجاب حکومت نے خود کو ایک بند گلی میں پایا۔

اسی دن کے اختتام تک یہ تباہ کن رپورٹ جاری کر دی گئی تھی اور جسٹس نجفی کے اخذ کردہ نتائج سے یہ واضح تھا کہ حکومتِ پنجاب نے اس رپورٹ کے اجراء کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگایا تھا۔

جج نے تحقیقات کے دوران یہ نشاندہی کی تھی کہ اس وقت پنجاب کے وزیرِ پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ، طاہر القادری کو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ سے روکنے کا عزم رکھتے تھے، جس کی وجہ سے پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے میں اس قدر سختی کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’قتل و غارت کے حقائق و حالات یہ بتاتے ہیں کہ پولیس افسران نے قتلِ عام میں سرگرم ہو کر حصہ لیا‘، اس میں مزید کہا گیا کہ صوبائی حکام نے طاہر القادری کے حامیوں کے خلاف ’بے رحمی اور شدید لاپرواہی‘ سے کام لیا۔

یہ فیصلہ طاہر القادری کی کامیابی تھی کہ انہیں اپنے حامیوں کے لیے انصاف کے حصول میں پیش رفت نظر آنے لگی۔رپورٹ کے اجراء کے اگلے چند دنوں میں انہوں نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفوں کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے سانحے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے ساتھ ساتھ مشتبہ بیوروکریٹس اور پولیس حکام کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا۔

پی پی پی، پی ٹی آئی، اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت متعدد جماعتوں نے طاہر القادری کی حمایت کا اعلان کیا۔طاہر القادری نے شہباز شریف اور ثناء اللہ کو وارننگ دی کہ 31 دسمبر تک استعفیٰ دیں یا پھر اپنے خلاف تحریک کے لیے تیار ہوجائیں۔

مارچ 2016 میں شروع ہونے والی ہندوستانی جاسوس کی سنسنی خیز کہانی بالآخر اس وقت اپنے انجام کو پہنچی جب پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات پر سزائے موت سنائی۔

یہ سزا ایک ملٹری ٹریبونل کی جانب سے ٹرائل کے بعد سنائی گئی، مگر پاکستان میں ہونے والے کلبھوشن یادیو کے ٹرائل میں شفافیت کی عدم موجودگی پر سرحد پار سے سوال اٹھائے گئے۔

کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے اعتراف اور انہیں ملنے والی سزا کو پاکستان کے داخلی معاملات میں ہندوستانی مداخلت کے ثبوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ہندوستان میں اس سزا کو ‘سوچا سمجھا قتل’ قرار دیا گیا اور صرف ایک ماہ بعد ہی ہندوستان نے عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں پاکستان پر قونصل تعلقات پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی۔

ہندوستان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان نے بار بار درخواست کے باوجود کلبھوشن یادیو کو قونصلر تک رسائی نہیں فراہم کی اور عدالت سے درخواست کی کہ پاکستان کو سزا پر علمدرآمد سے روکا جائے۔

آئی سی جے میں پاکستان نے اس مقدمے کو سننے کے حوالے سے عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کیا، عدالت نے پاکستان کے دلائل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت مؤخر کرنے کا حکم دیا۔اس وقت یہ مقدمہ آئی سی جے میں زیرِ سماعت ہے۔

2 دسمبر 2017 کو ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے یاتری پاکستان میں کٹاس راج مندر کی زیارت کے لیے آئے، یہ کئی مندروں کا حامل ایک بڑا احاطہ ہے جس میں ایک وسیع و عریض تالاب ہے، جس کے بارے میں ہندوؤں کا ماننا ہے کہ وہ ان کے دیوتا شیو جی کے گرتے ہوئے آنسوؤں سے بنا تھا۔

جب وہ پاکستان پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ تالاب تقریباً خشک ہوچکا تھا اور یاترا کے اہم رکن یعنی اشنان کرنے کے لیے پانی کافی مقدار میں موجود نہیں۔

اس سے پہلے نومبر میں تالاب کی حالت کے بارے میں میڈیا اطلاعات پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے معاملے پر از خود نوٹس لیا تھا۔خبروں میں کہا گیا تھا کہ تالاب کے سوکھنے کی وجہ قریبی سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے پانی کا بے دریغ استعمال تھا۔

مقدمے کی ایک سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے ان اطلاعات کی تصدیق کی اور چیف جسٹس نے ہندو برادری کی سب سے مشہور عبادت گاہوں میں سے ایک کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا۔

سماعتوں کے دوران سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق پر زور دیتے ہوئے کٹاس راج میں شری رام اور ہنومان مندروں میں بتوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’یہ مندر صرف ہندو برادری کے لیے ہی ثقافتی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ ہمارے قومی ورثے کا بھی حصہ ہے‘۔

13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے اس علاقے میں موجود چار بڑی سیمنٹ فیکٹریوں میں سے ایک بیسٹ وے سیمنٹ کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر تالاب کو پانی سے بھرے۔
بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں