سال2017ء : عالمی حالات و واقعات کا مختصر تجزیہ

اسلام آباد: 2017ء میں بین الاقوامی منظر نامے پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جو عالمی سطح پر گہرے نقوش چھوڑ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوئے اورمتنازعہ فیصلے کئے، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نئے سرے سے جائزہ لینا کا کہا۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات مزید کشید ہ ہوئے ٗ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی ۔

رواں برس بھی سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے 5 رکنی عرب اتحاد اور حوثی قبائل کے درمیان کشیدگی جاری رہی۔

میڈیا کے مطابق 2017 ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ایگزٹ پول نتائج اور تجزیہ کاروں کے دعوؤں کو غلط ثابت کرتے ہوئے حیران کن طور پر امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی امریکا میں گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بزنس ٹائیکون کامیاب قرار پائے تاہم انہوں نے بطور امریکی صدر عہدے کا حلف 20 جنوری 2017 کو اٹھایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنایا اور سب سے پہلے اسلامی ممالک پر سفری پابندیاں کیں۔ انہوں نے میکسیکو کے ساتھ اپنی سرحد پر دیوار بنانے کا اعلان بھی کیا اور شام کے فضائی اڈے پر بمباری کرکے متعدد طیارے تباہ بھی کیے۔

امریکی صدر نے عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا، پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی بات کی، شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا اور مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق ٹرمپ کے ایک سالہ دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے واقعات میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا بھی ایک ایسا واقعہ ہے جس سے مستقبل میں ناصرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ کی سیاست، معیشت اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

جون 2016 میں برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تاہم برطانیہ کی یورپی یونین سے باقاعدہ علیحدگی کا عمل مارچ 2017 سے پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد شروع ہوا۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے یورپی یونین کو باقاعدہ خط لکھ کر اس حوالے سے آگاہ کیا گیا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا عمل مکمل ہونے میں تقریباً دو سے تین سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی تھی اور برطانیہ کو یورپی یونین کا اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی طرح میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے معاملہ نے ایک بار پھر اگست میں اس وقت سر اٹھایا جب اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر سماجی تنظیموں کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو برما میں صورت حال مزید خراب ہو گی۔

اس رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، برمی افواج نے حکومتی سرپرستی میں میں راخائن میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی اور گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ میانمار میں ہونے والے مظالم حکومتی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ برمی افواج کے مظالم کے باعث روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلا دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً 6 لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلادیش کے کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مسئلہ فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی طرح مسئلہ کشمیر بھی رواں برس بھارتی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی کمیونٹی کی عدم توجہی کے باعث حل نہ ہو سکا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی مدد سے حریت رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تاہم کشمیری عوام اور حریت قیادت نے ہر بار کی طرح ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔

گزشتہ برس برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی سے مثاثر ہو کر رواں برس کاتالونیا میں بھی اسپین سے علیحدگی کے لیے مہم چلائی گئی اور بعد ازاں اس حوالے سے ریفرنڈم بھی ہوا ٗیکم اکتوبر کو کاتالونیا میں آزادی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں 90 فیصد افراد نے اسپین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں