سال2017ء میں 20 خود کش دھماکے، 355 افراد جاں بحق

سنہرا دور آن لائن: ملک بھر میں رواں سال 20 سے زائد خوفناک خود کش دھماکوں میں 355 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 1013 افراد شدید زخمی ہوئے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سنگین نوعیت کے دھماکوں سے قبل 2 ہزار سے زائد تھریٹ الرٹ جاری کئے گئے لیکن انتظامیہ کی جانب سے نظر انداز کرنے کی روایت برقرار رہی۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ کو پیش کی جانیوالی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران خود کش دھماکوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور سجنا گروپ کے خود کش بمبار ملوث رہے ہیں جن کو بھارت کی جانب سے فنڈنگ کی جاتی ہے۔

20 جنوری کو پارا چنار میں خود کش دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور 87 شدید زخمی ہوئے۔ چیئرنگ کراس مال روڈ پر 13 فروری کو خود کش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک سید احمد مبین سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 88 زخمی ہوئے۔ 5 اپریل کو بیدیاں روڈ پر دھماکے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 15 شدید زخمی ہوئے۔

15 فروری کو پشاور میں خود کش دھماکے کے باعث 2 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہوئے۔ 16 فروری کو مہمند ایجنسی میں دھماکے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ 16 فروری کو ہی لعل شہباز قلندر کے مزار پر خود کش دھماکے میں 88 افراد جاں بحق جبکہ 350 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ 31 مارچ کو خیبر پختونخوا میں خود کش دھماکے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 20 زخمی ہوئے۔

اپریل میں پارا چنار میں امام بارگاہ میں دھماکا 25 افراد کی جانیں لے گیا۔ 12 مئی کو مستونگ میں خود کش دھماکے میں 23 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 45 سے زائد زخمی ہوئے۔ 23 جون کو کوئٹہ میں خود کش دھماکے کے دوران 14 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے۔ پارا چنار مارکیٹ میں خود کش دھماکے میں 75 افراد جاں بحق اور 150 کے قریب زخمی ہوئے۔

24 جولائی کو فیروز پور روڈ پر ارفع کریم آئی ٹی ٹاور کے مرکزی گیٹ کے سامنے خود کش دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور 53 افراد زخمی ہوئے۔ 12 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے۔ 5 اکتوبر کو بلوچستان کے علاقہ درگاہ پیر راخیل شاہ فتح پور میں خود کش دھماکے میں 21 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے۔

کوئٹہ میں 18 اکتوبر کو خود کش دھماکا میں 7 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے۔ 17 دسمبر کو کوئٹہ میں چرچ پر خود کش حملے میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 57 شدید زخمی ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں