سانحہ ساہیوال، ملزمان کی شناختی پریڈ آج ہوگی

سانحہ ساہیوال کیس میں ملزمان کی شناخت پریڈ آج ہوگی، گزشتہ روز مدعی اور عینی شاہدین کے نہ آنے کے باعث شناخت پریڈ نہیں ہوسکی تھی۔

دو روز تک شناخت پریڈ میں ناکامی کے بعد آج ایک بار پھر سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی شناخت کے لیے عینی شاہدین کو بلایا گیا ہے۔ 

گزشتہ روز مقامی مجسٹریٹ اور جے آئی ٹی ارکان انتظار کرتے رہے، مگر مدعی مقدمہ اور عینی شاہدین میں سے کوئی نہیں پہنچا۔

مقتول خلیل کے بھائی مدعی جلیل نے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، بلکہ جوڈیشل کمیشن بننے پر ہی پیش ہوں گے۔

ادھر ایڈیشنل ہوم سیکریٹری پنجاب فضیل اصغر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو ساہیوال واقعہ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا تاہم خلیل اور ذیشان کی گاڑی سے فائر ہوا یا نہیں یہ جے آئی ٹی کی تحقیقات سے واضح ہوگا۔

سینیٹر بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پولیس نے سارے ثبوت مٹا دیے ہیں، گاڑی سے ملنے والی جیکٹس اور اسلحہ کہاں ہے؟ اگر وہ اب تک سامنے نہیں آیا تو ثبوت بدلے جاچکے ہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مرنے والے کے چہرے پر جلنے کے نشانات ہیں، اس کا مطلب ہے فائرنگ بہت قریب سے کی گئی۔

دوسری جانب پنجاب فارنزک ایجنسی کے ماہرین نے ساہیوال میں سانحے کے مقام کا دورہ کیا اور موقع سے گولیوں کے مزید خول حاصل کرلیے۔ 

فارنزک ایجنسی کو اب تک مجموعی طور پر 50 خول ملے ہیں، سانحہ ساہیوال میں پوسٹ مارٹم کے دوران لاشوں میں سے ملنے والی تین گولیاں بھی فارنزک ایجنسی کو بھیج دی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں