سانحہ ساہیوال:16 اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر، دہشتگردی کی دفعات شامل

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بتایا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث 16 افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کر کے سانحہ ساہیوال پر بحث کی گئی۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ سانحہ ساہیوال سے متعلق معلومات دینا چاہتی ہیں، اس میں ملوث سی ٹی ڈی کے 16 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں سے 10 وردی میں تھے جبکہ 6 اہلکار وردی میں نہیں تھے۔

شیریں مزاری نے بتایا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث ملزمان پر ایف آئی آر میں دفعہ 302 اور سیون اے ٹی اے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

پارلیمنٹ سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ آئے تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال سانحہ پر جتنی بات کی جائے کم ہے، اس واقعہ پر کسی کو پوائنٹ سکورنگ کرنے کی ضرورت نہیں، اس واقعہ سے آمریت کا دور یاد آتا ہے۔

خورشید شاہ نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ پر انصاف ہونا چاہیے۔ اس واقعے کے پیچھے کون ہے اور کس نے انفارمیشن دی کہ یہ دہشتگرد ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعہ پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے اور وہی کمیٹی جے آئی ٹی کی رپورٹ کا جائزہ بھی لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں