سانحہ قصور: لاہور ہائیکورٹ کا آئی جی پنجاب کو 36 گھنٹے میں زینب کے قاتلوں کو پکڑنے کا حکم

پوری فورس لگا دیں، ملزم جہاں بھی ہے پکڑیں، پنجاب میں زیادتی کے واقعات کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے: چیف جسٹس ہائیکورٹ

لاہور: (سنہرادور آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے قصور زیادتی کیس کے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے آئی جی پنجاب کو 36 گھنٹوں کی مہلت دے دی۔ چیف جسٹس نے کہا زینب ہم سب کی بیٹی تھی، قصور واقعہ انتہائی دلخراش اورافسوس ناک ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے قصور واقعے اور بچوں کیخلاف جرائم کے تدارک کیلئے درخواست پر سماعت کی۔ صفدر شاہین پیرزادہ کی درخواست پر عدالت نے آئی جی پنجاب عارف نواز کو طلب کیا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ اس واقعہ سے پہلے متعدد واقعات ہوئے ہیں اور ان پر کیا پیش رفت ہوئی جس پر آئی جی پولیس پنجاب عارف نواز نے بتایا کہ ابھی تک مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہوسکا لیکن جلد ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 227 افراد کو شک کی بنا پر حراست میں لیا جن میں سے 67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے، اس واقعہ سے قبل 11 واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے 2 ملزمان ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 6 واقعات میں ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ ایک ہی آیا ہے۔ چیف جسٹس نے باور کرایا کہ اس معاملے پر سیشن جج قصور سے بھی رپورٹ مانگی جائے گی، معاشرہ ایسے واقعہ پر پریشان ہے، اس معاملہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا پوری فورس لگا دیں، ملزم جہاں بھی ہے پکڑیں، پنجاب میں زیادتی کے واقعات کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے قصور اور پنجاب میں بچوں کیخلاف جرائم کے واقعات کی تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔ معاملے پر مزید کارروائی 15 جنوری کو ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں