ساہیوال واقعہ سے متعلق پولیس کی تضاد بیانی، عوام میں بے چینی کاسبب

ایک موقع اپوزیشن کے ہاتھ لگ گیا،وہ تحریک انصاف کی 5 ماہ کی حکومت کو نیزے پر لے چکی، اندرون ملک خوشحالی کیلئے پی ٹی آئی ا تک کوئی کارنامہ انجام دینے سے قاصر ہے
صلاح الدین حیدر۔کراچی
پاکستان کے شہر ساہیوال میں پولیس کی سربریت سے ملک میں ایک طوفان بپا ہوگیا ہے۔ حکومت پر تنقید جاری ہے۔ یہاں تک وزیراعظم عمران خان بھی تنقید کی زد سے نہ بچ پائے۔ واقعے کی تفصیل تو سب کے سامنے ہے صرف اتنا دہرا دینا کافی ہے کہ ایک پولیس وین نے نجی کار پر وحشیانہ اندازمیں گولیاں چلاکر ایک ہی خاندان کے 3 افراد، میاں بیوی اور بچی کو ڈرائیور سمیت موت کی نیند سلادیا۔ملک میں کہرام تو مچنا ہی تھا۔ اپوزیشن کے ہاتھ ایک اور موقع آگیا۔ وہ تحریک انصاف کی 5 ماہ کی حکومت کو نیزے پر لے چکی ہے۔ معاملہ اس لئے بھی شدت اختیار کر گیا کہ پولیس نے اپنے بیان میں ایک نہیں کئی بار تبدیلیاں کیں۔ معلوم نہیں کہ پاکستان میں چونکہ کئی دہائیوں سے پولیس کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کےلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا اصل فرض جو کہ عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت ہے، بھلا کر ظلم و ستم کی علمبردار بن کر رہ گئی ہے ۔ کرپشن کے بارے میں تو اسے دوش دینا فضول ہی ہے ۔اس لئے کہ کرپشن تو اب ہر شعبہ زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ چکی ہے۔ کون سا ایسا شعبہ ہے جو بدعنوانیوں سے پاک ہو۔ آپ کا جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔
عمران خان اور ان کی پارٹی انتخابات میں اور اس سے کہیں پہلے سے کرپشن کے خلاف صدا لگاتی رہی ہے۔ لوگوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا، انہیں الیکشن میں کامیاب کروایا اور آج وہ برسراقتدار ہیں لیکن حکومت چل بھی رہی ہے کہ نہیں؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ عمران خان لاکھ خارجہ امور میں کامیابی حاصل کررہے ہوں لیکن ان سمیت کسی بھی سیاستداں کا مستقبل اندرون ملک خوشحالی سے منسلک ہوتا ہے جس میں پی ٹی آئی اب تک کوئی بھی کارنامہ انجام دینے سے قاصر ہے۔ 
ساہیوال کے واقعے میں جس طرح کے تضادات پولیس کے بیانات میں شروع سے لے کر اب تک سامنے آئے ہیں، اس نے لوگوں میں مزید بے چینی اور حکومت پر عدم اعتماد کی فضا پیدا کردی ہے۔ معاملات اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئے جب پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر کہ نجی کارجس میں وہ فیملی شادی کی تقریب میں جارہی تھی،اس کا ڈرائیور ذیشان، داعش کا دہشتگرد تھا اور ملٹری خفیہ ایجنسی نے اس کے بارے میں پنجاب کی شاہراہ پر پولیس کو پیغام بھیجا تھا کہ اسے نشانے پر رکھ لے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈرائیور داعش کا دہشتگرد تھا تو اس کی کار میںنشانہ بننے والی فیملی کیوں سوار ہوئی۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ڈرائیور پہلے سے مقتول گھرانے کی ملازمت میں تھا، تووہ کتنے دن سے تھا۔ پھر یہ وضاحت کہ جس روز ساہیوال کے قریب یہ سانحہ پیش آیا ،اسی روز لاہور کے قریب شہر گوجرانوالہ میں اس کے 3 ساتھی دہشتگرد مارے گئے۔ وہ گوجرانوالہ میں کئی روز سے مقیم تھے لیکن ان کے خلاف پولیس ایکشن اس لئے نہیں کیا گیا کہ گنجان آباد علاقے میں کشت و خون کا خطرہ تھا اور کئی معصوم جانیں ضائع ہوجاتیں۔
کراچی اور دوسرے شہروں میں تو ایسے ملٹری اور پولیس ایکشن عام ہوتے ہیں۔ رینجرز اور سیکیورٹی ایجنسیاں علاقے کو گھیرے میں لے کر گھروں پر چھاپے مارتی ہیں تو پھر اس خاص واقعے پر اتنی احتیاط کیوں؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات خود بخود ذہنوں میں جنم لیتے ہیں۔ نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بہت اہم سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب پولیس یا پنجاب حکومت ابھی تک دینے سے قاصر ہے پھر اس قدر دلخراش حادثے کے بعد فوری طور پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ خود وزیراعظم کو 15 گھنٹے بعد احساس ہوا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر خود سانحہ کی تفصیل حاصل کرنی چاہئے تھی اور خود وزیراعظم ایک دو گھنٹے کےلئے وہاں چلے جاتے تو ان کی توقیر میں اضافہ ہوجاتا۔
پولیس کے اہلکاروں کو جو کہ فائرنگ میں ملوث تھے، گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں جائے وقوعہ پر تفتیش بھی شروع کرادی گئی لیکن 38 گھنٹے بعد تو بہت سے شواہد مٹ گئے یا مٹا دیئے گئے ہوں گے۔ عوام میں بے چینی دورکرنے کے لئے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کی فوری ضرورت ہے پھر اعلیٰ عدلیہ اس سنگین معاملے پر خود نوٹس کیوں نہیں لیتی؟ یہ اور بہت سارے سوالات کے صحیح جوابات کا لوگوں کو شدت سے انتظار رہے گا۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں