”ستمگر بہت ،مہرباں کم ملیں گے“

ڈاکٹر انیلا صفدر۔الخبر

گزشتہ برس یعنی 2018 ءمیں الیکشن ہوئے تو ہمیں بھی شرف حاصل ہوا کہ ہم اس وقت کے ساتھ ساتھ ان حالات کو بھی اپنی ہی نظروں سے دیکھ لیں کہ کیسے اور کیونکر پی ٹی آئی ،آئی آئی۔
ابھی ناشتے سے ہی فراغت نہ ملی تھی کہ والدہ محترمہ کی ہم جولیاں ہمارے گھر آنا شروع ہو گئیں۔ ان کی تیاری دیکھ کر مجبوراً مجھے اپنی بہن سے پوچھنا پڑا کہ کیایہ کسی پارٹی میں جا رہی ہیں تو پتہ چلا نہیں ووٹ ڈالنے کی تیاری میں ہیں۔میں لاکھ ا نگشت بدنداںہوئی مگر مجھے بھی ساتھ ہی جانا تھا۔
خیر ہم پولنگ اسٹیشن پہنچے ہر بندی ہر بچی سب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے آئی تھیں۔یہاں جو کچھ دیکھا اسے دھاندلی کہنا تو سراسر غلط ہو گا۔ لوگ پچھلے حکمرانوں سے تنگ آئے ہوئے تھے ۔وہ تبدیلی کے خواہاں تھے اس لئے سب نے دل و جان سے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔
خیر لوگوں کا جذبہ رنگ لایا اور پی ٹی آئی……. آئی آئی ہو گئی۔ اور ڈگڈگی بجاتا خزانہ اور قرضے کے انبار کرپشن اور منی لانڈرنگ کے تڑکے کے ساتھ حکومت کی منہ دکھائی کی رسم ہوئی اور رفتہ رفتہ سست خرام حکومت نے بلکتے ہوئے خزانے کے ساتھ پہلے تو اپنے 100 دن پورے کئے ۔ اب باقی مدت کی تکمیل کے لئے آگے بڑھ رہی ہے ۔
ماشاءاللہ، ہمارے وطن عزیز کو معرضِ وجود میں آئے 71سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ۔ لوٹنے والے اس ملک کو اتنے سالوں سے لوٹ رہے ہیں اور افسوسناک حیرت اس بات پر ہے کہ وہ حکومت سے محض چندماہ کی کارکردگی کا حساب مانگ رہے ہیں ۔
ارے سوچنے کی بات ہے ناں کہ اچانک سے کون سا جادو یا چھڑی پی ٹی آئی کے ہاتھ لگ گئی ہے کہ وہ اسے گھمائے گی اور راوی فوراً ہی قلم تھام کر ہر طرف چین ہی چین لکھنا شروع کر دے گا۔پنجابی کی ایک کہاوت ہے
جناں دے گھر دانے ، اوہناں دے کملے وی سیانے
خالی جیب سے کون سی تبدیلی آسکتی ہے اور کون سی اصلاحات کی جا سکتی ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ ہر چیز پیسہ مانگتی ہے۔ ہر کام کے لئے فنڈز چاہئیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان فنڈز سے کام ہو یا وہ سیاستدانوں کے اکاو¿نٹس میں جمع ہو ںیا ماڈلز خراماں خراماں کیٹ واک کرتی منی لانڈرنگ کا ارتکاب کریں، ہر جگہ پیسہ درکار ہے اور جب خزانے کے ساتھ ساتھ کشکول بھی خالی ہو تو کہاں سے حکومت کام کرے گی؟ مجبوراً بھینسیس ہی بیچے گی کیونکہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے۔
اب تو کمال ہو گیا، ظالم وقت بھی بھاگتا جا رہا ہے رکنے یا ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہا اور اب تو اپوزیشن اچھل اچھل کر چیخ چیخ کر کہے گی کہ کیا کیا اس حکومت نے جو پچھلے سال سے اقتدار میں ہے۔ اب معاملہ سو دن کانہیں رہا بلکہ 2018 سے نکل کر نئے سال 2019 میں آنے کا ہے جس میں خیر سے نئی حکومت بھی قدم رنجہ فرما چکی ہے۔
ذرا سی دیر سوچنے کی بات ہے لیکن سوچے کون، سب کے سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف و مشغول ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
نیا سال آیا نئے غم ملیں گے
ستمگر بہت ،مہرباں کم ملیں گے
کوئی شک نہیں کہ حکومت چلانابھی کسی کڑے امتحان سے کم نہیں۔ اس میں حکومت سے زیادہ عوام پس رہی ہے لیکن اگر ہمارے ادارے دیانتداری سے حکومت کے ساتھ رہے اور عوام تھوڑا سا اور پسائی برداشت کر لے تو دیکھئے گا، راوی ایک دن چین ہی چین لکھے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے لئے نیا طعنہ تیار ہو چکا ہے کہ حکومت 2018ءسے اقتدار میں ہے، اب تک اس نے کیا کیاہے ۔امید واثق ہے کہ 70سال ان لوگوں نے جو کچھ کیا وہ کم از کم اب نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں