سری لنکا: متعدد دھماکوں میں 207 افراد ہلاک، ملک بھر میں کرفیو

سری لنکا میں حکام کے مطابق مسیحیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کی تقریبات کے دوران گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں آٹھ دھماکوں میں غیر ملکیوں سمیت کم از کم 207 افراد ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
دھماکوں کے نیتجے میں سری لنکا کے وزیر دفاع نے ملک میں غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق افواہوں سے بچنے کے لیے ملک میں فیس بک، واٹس ایپ اور پیغام رسانی کی دیگر سروسز کو معطل کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سری لنکا میں چھ دھماکے اس وقت ہوئے جب اتوار کی صبح  لوگ ایسٹر کی دعائیہ تقریبات میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق اس کے چند گھنٹے بعد دو مزید دھماکے ہوئے ہیں جن نے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سری لنکا کے حکام کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاحال ان دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں ہے اور کسی فرد یا تنظیم نے ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اے ایف پی کے مطابق ہسپتال ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں برطانوی، امریکی، پرتگالی اور ڈچ شہری شامل ہیں جبکہ جاپانی اور برطانوی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
  • دھماکے کہاں ہوئے؟
یہ دھماکے کوچھی کاڈے، نیگمبو اور بٹی کالوا کے علاقوں میں واقع گرجا گھروں میں ہوئے جبکہ دارالحکومت کولمبو میں واقع شنگریلا، سینامن گرینڈ،کنگز بری اور دہی والا کے علاقے میں واقع ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کولمبو کے تین ہوٹلوں اور ایک گرجا گھر میں ہونے والے دھماکوں میں 45 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 67 افراد کولمبو کے  شمال میں واقع نیگمبو کے علاقے کے گرجا گھر میں ہونے والے دھماکے میں جان سے گئے۔
اطلاعات کے مطابق کم از کم 25 افراد ملک کے مشرق  میں واقع بٹی کالوا ٹاؤن کے گرجا گھر میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کم از کم تین افراد کولمبو کے نواحی علاقے دہی والا میں ہلاک ہوئے۔ 
  • حکام کیا کہتے ہیں؟
سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے قوم سے خطاب میں دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پر امن رہیں۔
وزیر خزانہ منگالا سماراویرا نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ’ دھماکوں میں بہت سے معصوم لوگ مارے گئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ حملے ملک میں قتل وغارت اور انارکی پھیلانے کی منظم کوشش ہے۔’
کولمبو کے نواحی علاقے نیگمبو کے ایس ٹی سیبسٹائین چرچ کے فیس بک پیچ پر انگریزی زبان میں کیے گئے پوسٹ میں کہا گیا ہے ‘ہمارے چرج پر بم حملہ ہوا ہے، اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہے تو براہ مہربانی آئیں ہماری مدد کریں۔‘
  • دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات
اس موقعے پر دُنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان نے سری لنکا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ‘میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خوفناک دہشت گردانہ حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ہم اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔ پاکستان اس غم کی گھڑی میں پوری طرح سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔’
دوسری طرف انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ایک پیغام میں سری لنکا میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت اور عوام سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ‘میں سری لنکا میں ہونے والے خوفناک دھماکوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے خطے میں اس طرح کی بربریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انڈیا سری لنکا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ میری دعائیں متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔’
ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی سری لنکا میں ہونے والے ان دھماکوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اصل میں یہ تمام انسانیت پر حملہ ہے۔ میں ترکی کے عوام کی جانب سے دھماکوں کا شکار ہونے والے خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔’
خیال رہے کہ سری لنکا کی آبادی کا صرف چھ فیصد کیتھولک مسیحیوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن سری لنکا میں مسیحی مذہب کو ایک ‘جوڑنے والی طاقت’ کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کے مسیحی پیروکاروں میں اقلیتی تمل اور اکثریتی سنہالی نسل کے افراد دونوں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں