سعودی عرب میں ہائپر لوپ: ریاض سے جدہ کا سفر 50منٹ میں ہوگا

سعودی عرب میں پہلی دفعہ ایک ایسے جدید اور تیز رفتارذریعہ سفر کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ گھنٹوں کی طویل مسافت منٹوں میں طے ہو سکے گی بلکہ اس کا کرایہ جہاز سے بھی سستا ہوگا ۔
 آ ئیندہ برس سے سعودی عرب میں بسنے والے لوگ ’’ہائپر لوپ‘‘ سے سفر کرنے لگیں گے جس سے ریاض اور جدہ کاسفر زیادہ سے زیادہ 50منٹ میں طے ہوسکے گا جبکہ ریاض سے تفریحی شہر ’’ القدیہ‘‘ جانے میں صرف 7منٹ لگیں گے۔ ’’ہائپر لوپ‘‘ کے ٹکٹ کے نرخ بسوں اور ٹرینوں جتنے ہوںگے۔یہ ہوائی جہازوں سے سستے ہونگے۔
  • ہائپر لوپ کیا ہے؟
اس نظام میںریل کی بوگی پٹری پر دوڑنے کے بجائے ایک ٹیوب میں سفر کرے گی۔ بوگی یا کیپسول پریشرائزڈ ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہے یعنی کیپسول اور ٹیوب میں کسی قسم کی رگڑ پیدا نہیں ہوتی ۔ ٹیوب میں ہوا کا دباو قدرتی دباو سے کم رکھا جاتا ہے تاکہ کیپسول کو ہوا کے دباو سے پیدا ہونے والی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کیپسول تیز رفتاری سے سفر کر سکے۔انجن کے طور پر بجلی اور معلق مقناطیس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • منصوبے کی لاگت
 ورجن ’’ہائپر لوپ ون‘‘ کمپنی کے ڈپٹی چیئرمین کولن رایس نے مقامی اخبار عکاظ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہائپر لوپ پر آنے والی مجموعی لاگت کی بارے میں ابھی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں۔ کولن رایس نے کہا کہ ایک کلو میٹر کی لاگت 15تا 20ملین ڈالر ہوگی۔ بین الاقوامی گروپ یہ جدیدٹیکنالوجی سعودی عرب منتقل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ اسکی بدولت منصوبے پر عملدرآمد کیلئے پہلے ہی سال ہزاروں سعودیوں کو روزگار کے شاندار مواقع حاصل ہونگے۔
 ’’ہائپر لوپ‘‘ ٹیکنالوجی سے آراستہ تکنیکی خصوصیات حاصل کرنے کیلئے کئی شعبوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تعاون اور یکجہتی پیدا کرنا ہوگی جن میںتعمیرات، پروگرامنگ اور انجینئیرنگ کے شعبے نمایاں ہونگے۔متعلقہ کمپنیو ںکو اپنے صنعتی کام انجام دینے کیلئے سعودائزیشن کا اہتمام کرنا پڑیگا۔ سعودی نوجوانوں کو ٹریننگ دینا ہوگی تاکہ ’’ہائپر لوپ‘‘ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے باعث پیدا ہونے والی تجارتی طلب پوری کی جاسکے۔
ڈپٹی چیئرمین نے توقع ظاہر کی کہ اس منصوبے پر لگائے جانے والے سرمائے کا منافع ایک برس کے اندرملنے لگے گا جس سے سعودی عرب کو بھاری منافع ہوگا۔
  • ہائپرلوپ کی رفتار کیا ہے؟
کولن رایس کا کہناہے کہ ’’ہائپر لوپ‘‘ کے سامنے سفر کے بہت سارے امکانات کھلے ہوئے ہیں۔ ریاض، دمام،جدہ، نیوم ، ریاض اور القدیہ وغیرہ کیلئے سفر سروس شروع کی جاسکتی ہے۔ اس کی انتہائی رفتار فی گھنٹہ 1080کلو میٹرہوسکتی ہے اور یہ میزائل کی رفتار کے برابر ہے۔ ’’ہائپر لوپ‘‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے مسافر گاڑی یا ہلکا پھلکا سامان لیجانے والی گاڑی کی رفتار 670میل فی گھنٹہ ہوسکتی ہے۔ 1080کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار، برق رفتار ٹرینوں کی رفتار سے 3گنا زیادہ ہے۔ یہ روایتی ٹرینوں کی رفتار سے 10تا 15گنا زیادہ ہے۔اس کی اوسط رفتار جغرافیائی تشکیل اور گاہکوں کے تقاضوں کے مطابق ہوگی۔
کولن رایس نے بتایا کہ ’’ہائپر لوپ ون ‘‘ سسٹم یا تو ستونوں پر نصب ہوگا یا (انڈر گرائونڈ) رکھا جائیگا تاکہ ہر طرح کے خطرات سے بچا جاسکے۔ یہ 100 فیصد ’’برقی‘‘ ہوگا۔
  • ہائپرلوپ کہاں کہاں ہے؟
’’ہائپر لوپ ‘‘ سسٹم اب تک کن ممالک میں رائج ہوچکی ہے؟ اس سوال پر کولن رایس نے کہا کہ سعودی عرب، امارات، ہندوستان، اسپین اور امریکہ کی حکومتیں اسے اپنا چکی ہیں۔ ’’ہائپر لوپ‘‘ تیز رفتار مواصلاتی نظام ہے جسے امریکی سرمایہ کار اور موجد ’’ایلن مسک‘‘ نے متعارف کرایا تھا۔ کولن رایس بتاتے ہیں کہ ہائپر لوپ منصوبہ 2020 کے اوائل میں سعودی عرب میں نافذ ہوجائے
گا۔ ان کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018ء کے دوران کیلیفورنیا میں ان کے ادارے کا دورہ کیا تھا اور تب ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ یہ سعودی عرب کے اقتصادی نظام کو یکسر بدلنے کیلئے بے حد اہم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں