سنہرا دور دو قدم پر

کوثرعلی

وطن عزیز پاکستان کو جذبہ حب الوطنی “patriotism”  کی ضرورت  جتنی آجکل ہے اتنی شاید کسی زمانے نہ تھی ۔ دلیل روشن ہے کہ ہزاروں اندرونی اور بیرونی  دشمنوں  نے گٹھ جوڑ کرلیا ہے اور وہ اپنے ناپاک ارادوں سے پاک سرزمیں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔ مرکزی سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے ؟ یہ  مرکزی سوال بہت سارے  جزئی سوالوں کا منبع قرار پاتا ہے۔ مثلاً ؛

1.کیا کیا جاۓ کہ پاکستان کے نوجوان اپنی سرزمین اپنی مادر وطن کو ٹوٹ کر چاہیں ؟

2.کیا کیا جاۓ کہ ہمارے جوان اپنی طاقت و قوت پر اعتماد کریں اور وہ یہ کہیں کہ ہم ہر مشکل کام کو انجام دے سکتے ہیں ؟

3.کیا کیا جاۓ کہ ہمارے مقتدر ادارے قوت ارادی کے مالک ہوں اور قوت فیصلہ کے حامل ہوں؟

4.کیا کیا جاۓ کہ ہمارے سیاستدان اپنے ذاتی مفاد کو ملک و معاشرے کے مفاد کو عزیز رکھیں ؟

5.کیا کیا جاۓ کہ لسانی و دینی تعصب کو کمترین سطح پر لایا جاۓ؟

6.کیا کیا جاۓ کہ انسانی اقدار کی ہمارے معاشرے اندر پایمالی نہ ہو؟

اور اس طرح کی بیسویں سوالات ذہنوں میں آتے ہیں ۔ ہر ایک سوال کا جواب ایک کامل، موثر اور مفید اسٹریٹجی  چاہتا ہے  لیکن

 راہ حل  کی تلاش میں پہلا قدم یہ ہے کہ انسان کی شناخت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ فطرتاً اپنی ذات و ھستی کو چاہتا ہے  اور ہر وہ چیز جو اسی کی ذات کے متعلق ہو اسکی چاہت بھی اسکے اندر کوٹ کوٹ کر بھر ہوتی ہے ۔ وہ ذات چاہے ایک سیاستدان کی ہو یا یک محافظ وطن کی ، وہ ذات ایک جسٹس کہ ہو  یا ایک بیوروکریٹ کی ہو ، ایک استاد کی ہو یا تاجر کی ہو۔ یہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔  اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ انسان مقام و منصب اور مال ودولت کو کمال سمجھ رہا ہوتا ہے لذا اپنے لیے اور اپنوں کے لیے اتنا لوٹتا ہے اسکی یہ ہوس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اور جب  کبھی اسکے مفاد دوسرے انسانوں کے مفاد سے ٹکراتے ہیں تو وہ تمام انسانی، قومی،  اخلاقی و دینی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوۓ آگے بڑھ جاتا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ ایک  کا جواب تو آپ کو بتا دیا  کہ وہ اپنی ذات اور اپنی ذات کے متعلق چیزوں کو ٹوٹ کرچاہتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ دولت اور اقتدار و مسند کو کمال سمجھ بیٹھا ہے ۔  ایسے حالات میں اگر اسکے لیے ممکن ہو تو وہ پوری دنیا کے لوگوں ختم کر دے اور اسکے تمام وسائل کو اپنے قبصے میں لے کر  پورے کرہ ارض پر اپنی حاکمیت کو قائم کرے۔بڑی مشکل میں پھنس گئے،  اب ہمیں  کیا کرنا چاہیے؟ مختلف جواب دیۓ جاتے ہیں مثلاً ؛

1.قانوں سازی میں سخت سزا مقرر کر دیں، مشکل حل ہو جائے گئ۔

2.چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط کردیں ، مشکل حل ہو جائے گئ۔

یہ بات بھی مسلم ہے کہ ہم انسان کی ان تمام خرابیوں کو ختم نہیں کرسکتے  بلکہ ان کو کم سے کم حد (مینیمایئز) تک پنہچایا جا سکتا ہے اور ان دو کاموں کو عملی کرنے سے تمام خرابیوں کو مینیمایئز) کیا جاسکتا ہے ۔ یقیناً نہیں ، پھر کیا کرنا چاہیے؟

وطن عزیز میں ایک بار پھر انقلاب لانے کے ضرورت ہے جیسا کہ ہمارے اجداد نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاے ۔ لیکن اس انقلاب کی ماھیت مختلف ہے   اس انقلاب کی طرف پہلا قدم،  تعلیم و تربیت  کے نظام  کی اصلاح ہے  اور یہ وہ  بنیادی قدم ہے  جیسے ہمیں مل کر اٹھانا ہوگا۔ یہ ایسا نظام جو ہماری مشترک قومی ، ملی ، ملکی  و دینی مشترکات کا آئینہ دار ہو اور اسی نظام کے ذریعے ہمارے معاشرے کے تمام افراد اپنے ابتدائی تعلیمی و تربیتی مراحل کو طے کریں۔ کیونکہ ابتدا میں انسان کو “حب ذات”  کے خول سے باہر نکالا جاسکتا ہے  بعد میں انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ انسان کی مثال گیلی لکڑی کی طرح ہوتی ہے اور اسکو آسانی سے موڑا جا سکتا ہے جب بڑا ہوجائے تو و خشک لکڑی کی طرح ہوتا ہے جس کی تربیت ممکن نہیں رہتی۔

دوسرا  قدم یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان  کو ٹوت کر  تمام چاہنے والے طبقات کی  فوراً شناخت کی جائے اور تمام کلیدی اور حساس معاملات میں ان کو آگے لایا جاۓ  اور کالی بھیڑوں کو جنگل میں چھوڑ دیا جائے ۔  یہ کام فوری کرنے کا ہے لذا جلدی کریں کہں ایسا نہ ہو دیر ہوجاۓ۔ اسی قدم سے مربوط ایک کام یہ ہے کہ  جن لوگوں نے وطن عزیز کے قربانیان پیش کیں ان کو ایام کی مناسبت  ہمیشہ یاد رکھا جائے قومی کلینڈر کو  از سرے نو بنایا جاۓ تاکہ حب الوطنی کا جذبہ ہمیشہ زندہ و تازہ رہے ۔  مثلاً حب الوطنی اور انسان دوستی کا مجسمہ  ، صوبہ خیبر پختونخواہ کا ایک نوجوان اعتزاز حسن ہے ۔  پورے  ملک کے وفادار فرزندوں سے  اور  اسکے  تمام اداروں  سے،  بطور خاص ریاست کے چوتھے ستون  سے ایک سوال ہے کہ جس نے اپنی جان اس ملک کے سینکڑوں نوجوانوں پر نچھاور کردی،  اور جس نے “حب ذات” کے خول  کو  اپنے خون سے پارے پارے  کردیا ، تم لوگو اسکو  اتنی جلدی کیسے بھول گئے؟

 ان چیزوں کے علاوہ ، حب الوطنی کو فروغ دینے کے لیے کچھ اقدام ضروری ہیں :

1.`انتظامہ ، اور پاک فوج ھر قومی مناسبت سے ایک ملی نغمہ کو میڈیا پر نشر کرۓ

2. قومی شاعری کا سالانہ مقابلہ کروایا جاۓ اور بہترین شاعری لکھنے والون نہ فقط انعام سے نوازا جاۓ بلکہ مستقل ملازمت دے دی جاۓ اور ان کا کام ہی فقط ملی شاعری کرنا ہو۔

3. مختلف میڈیا چینلز ملکی سطح پر ملی شاعری اور نخمہ سرائی کا سالانہ مقابلہ کروائیں

4. پاکستان کے چاروں صوبون کے تعلیم نصاب کا ازسرے نو جائزہ لے اور کچھ قومی اور ملی ھیرزو کو مستقل طور پر نصاب کا حصہ بنا دیا جاۓ

5. ملی نغموں کے  سالانہ مقابلے صوبوں کے مابین منعقد کرواۓ جائیں

اس امید سے یہ اقدام اٹھائیں کہ حتماً سنہرا دور جلد ہی  لوٹ آۓ گا

ایم فل فسلفہ / لکھاری کو پی فار سی (philosophy for children) اور strategies for kids کے مضامین پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اسی شعبہ میں تحقیق میں مشغول ہیں  ۔ kausarali5@yahoo.com

3 تبصرے “سنہرا دور دو قدم پر

اپنا تبصرہ بھیجیں