سنہ2007سے تاخیر کے شکار لئی ایکسپریس وے منصوبہ کیلئے تحریک انصاف متحرک

محمد اویس

حکومتیں آتی اور جاتی ہیں۔ سیاست کی بساط پر مہرے بدلتے رہتے ہیں۔ مگر حکمرانوں کے جانے کے بعد ان کے منصوبے ان کی کارکردگی کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی منصوبے اصل میں کسی بھی حکومتی سیاسی پارٹی کیلئے تعلقات عامہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ منصوبے بنانے سے بھی حکمران عزت کماتے ہیں اور اگر ضروری منصوبوں کو نظر انداز کر دیاجائے تو عوام کبھی بھی معاف نہیں کرتے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام کیلئے ٹریفک کا اژدھام ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہزاروں لوگوں کیلئے روزانہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور کاروبار کے مقام پر پہنچنا اور شام کو واپس آنا روزمرہ زندگی کا امتحان ہے۔ ٹریفک کا ہجوم، ٹریفک میں اگر کوئی معمولی خلل پڑ گیا تو تاخیر کی ذہنی کوفت۔ پھر جلد بازی کی وجہ سے حادثات کے خدشات۔ مطلب مجموعی طور پر صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی ہے کہ جڑواں شہروں کے باسیوں کیلئے ٹریفک کیلئے متبادل سڑکوں کا پورا ایک نظام درکار ہے۔ اس صورتحال میں ایک اہم ترین منصوبہ لئی ایکسپریس وے کا ہے۔ یہ منصوبہ 2007میں معرض وجود میں آیا۔ مگر بد قسمتی سے سیاسی چپقلش یا پھر حکمرانو ں کی عدم توجہ کی وجہ سے یہ منصوبہ شروع ہی نہ ہو سکا۔ لئی ایکسپریس وے ایک سڑک ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کو دونوں شہروں کے درمیان آمد و رفت کیلئے تیز، آسان اور بلا رکاوٹ ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس سڑک کے بننے سے کئی سڑکوں پر سے ٹریفک کا ہجوم کم ہو جائیگا۔ مری روڈ اور اسلام ایکسپریس وے دو ایسی بڑی سڑکیں جن پر اس سڑک کے بننے سے رش کم ہو جائیگا۔ شہریو ں کو سہولت میسر آئی گی اور دونوں شہروں کے باسیوں کو سکون اورراحت میسر آئی گی۔ 
مگر ایک دہائی نہیں بلکہ 12سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ مگر یہ منصوبوں فائلوں سے نکل کر حقیقت کی دنیامیں جلوہ گر نہیں ہو سکا۔ لئی ایکسپریس وے سے دوگنا بلکہ تین گنا مالیت کے بڑے منصوبے بن گئے مگر یہ منصوبہ ادھورا ہی رہا۔ عوا م کی ٹیکس کی رقم کو عوام کی سہولت کے مطابق نہ خرچ کرنا بھی کرپشن ہے۔ مگر شاید نیب کا کوئی قانون ایسی کرپشن کو اپنے دائرہ اختیار میں نہیں لے سکتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس منصوبوں پر سنجیدگی سے کام شروع کیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد جو کہ اس منصوبے کے تخلیق کار ہیں ایک بار پھر متحرک ہو چکے ہیں اور اس منصوبے کو شروع کرانے کیلئے مکمل تیاری میں ہیں۔ گذشتہ ہفتہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں لئی ایکسپریس وے کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں اس منصوبہ کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گے۔ اجلاس میں شیخ رشید کے علاوہ چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، انجینئر انچیف ملٹری سروس لیفٹینٹ جنرل محمد افضل، کمشنر راولپنڈی جودت ایازاور دیگر اعلی اہم افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کے شراکاء کی شمولیت کی وجہ سے یہ قیاس حقیقت میں بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد جڑواں شہروں کے باسیوں کو لئی ایکسپریس وے کا تحفہ ملنے والا ہے۔ 
اس منصوبے کے کئی ایسے پہلو ہیں جو انہتائی اہم اور ان کے دورس نتائج برآمد ہونگے اور جس سے اس کی افادیت میں بھی اضافہ ہو گا۔ نئی خوبیوں کے اضافہ اور اس کی لمبائی میں اضافہ کے بعد اس منصوبہ کو لئی ایکسپریس وے پلس بھی کہا جا سکتاہے۔ سب سے پہلے یہ بات ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اس منصوبہ کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ وزیر اعلی کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیوٹ شراکت داری کے تحت بنایا جائیگا۔ اب شراکت کا طریقہ کار کیا ہو گا اس کا فیصلہ نہیں ہوا۔ مگر جو بھی ہو اس سے عوام خوش ہیں۔ اگر ٹال ٹیکس بھی لگایا جائے تو عوا م کو کیا اعتراض۔ کیونکہ سہولت اور بچت عوام کیلئے پھر بھی زیادہ ہے۔ دوسرے یہ کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس منصوبہ کو سواں پل سے کشمیر ہائی وے تک بنایا جائیگاجس سے اس کی لمبائی 23.2کلومیٹر ہو جائیگی۔ اس منصوبہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں سواں سے عمار چوک تک کا چھ کلومیٹر کا حصہ، عمار چوک سے کٹاریاں تک کا 11کلومیٹر اور کٹاریاں سے کشمیر ہائی وے تک کا 6.2کلومیٹر کا سیکشن شامل ہے۔ اس منصوبہ کا اہم پہلو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ہے جوکہ اڈیالہ روڈپر بنایا جائیگا اور تجویز ہے کہ موتی محل سے اڈیالہ روڈ تک ایک سیورج لائن کے ذریعہ تما م سیورج اس ٹریٹمنٹ پلانٹ تک لایا جائیگا اس پلانٹ کے لئے زمین 2007میں راولپنڈی انوائرنمنٹ امپروومنٹ پروگرا م کے تحت حاصل کر لی گئی تھی۔ اس ٹریمنٹ پلانٹ سے گزرنے کے بعد یہ پانی زرعی مقاصد کیلئے استعما ل بھی کیا جا سکتا ہے اور حکومت اس پانی کو فروخت کر کے منصو بے کی قیمت وصول کر سکتی ہے۔ اگر اس منصوبہ پر ٹا ل ٹیکس بھی لگایا جائے اور ٹریٹمنٹ پلانٹ کا زرعی مقاصد کا حامل پا نی اگر حکومت فروخت کرتی ہے تو یہ منصوبہ نہ صرف اپنی قیمت پوری کر لے گا بلکہ بہت جلد حکومت کیلئے منافع کا بھی باعث بن جائیگا۔ 
اس منصوبہ سے نالہ لئی کو ایک نئی شناخت ملے گی۔ وہ نالہ جو اپنی گندگی اور کناروں پر ناجائز تجاوزات کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کیلئے صفائی اورترقی کی نشانی بن جائیگا۔ اس منصوبے کے اردگر د کے علاقوں میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنیں گی۔ کمرشل ایریاز بنے گے اورروزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔  

اپنا تبصرہ بھیجیں