سوڈان میں جمہوریت کے لیے فوج مخالف مظاہرے شروع

 سوڈانی فوج کی جانب سے ملک پر 30 برس سے حکمرانی کرنے والے صدر عمرالبشیر کو اقتدار سے ہٹا کر ملکی انتظام خود سنبھالنے کے ایک روز بعد مختلف شہروں میں فوج مخالف مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
مظاہرین نے ملک کا انتظام چلانے کیلئے فوج کی طرف سے بنائی گئی عبوری ملٹری کونسل کو مسترد کر دیا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوج حکومتی انتظامات جمہوریت پسندوں کے حوالے کرتے ہوئے 30 سالہ آرمی دور حکومت کو ختم کرے اور ملک کو جمہوریت کے رستے پر ڈالا جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہروں کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں میں زیادہ تر دفاتر اور دکانیں بند رہیں۔
ادھر امریکہ اور اقوام متحدہ نے بھی سوڈان کی ملٹری کونسل کو جمہوری حکومت کی راہ ہموار کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ڈاکٹروں، اساتذہ اور انجینئرز کے مختلف اتحادوں نے بھی احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت اُمہ پارٹی کے رہنما صادق المہدی نماز جمعہ کے بعد سوڈان کے شہر اُمدرمان کی مختلف مساجد میں مظاہرین سے خطاب کریں گے۔
خیال رہے کہ 1989ءمیں عمرالبشیر کے اقتدار پر قبضے کے وقت صادق المہدی سوڈان کے منتخب وزیراعظم تھے۔ وہ 2010ءمیں تقریباً ایک سال کی جلاوطنی کاٹ کر وطن واپس لوٹے تھے اور اس وقت سے اپنی جماعت کے کارکنوں کو متحرک کرنے میں مصروف تھے۔ 
 عمرالبشیر کے خلاف کئی ماہ سے جاری مظاہروں اور جمعرات کے روز فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے میں بھی صادق المہدی کا اہم کردار ہے۔ 
‘یہ چوک ہمارا ہے’
ملک کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مظاہرین فوج کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں مگر تاحال فوجیوں کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔
مظاہرے میں شریک ابو عبیدا نامی ایک شخص نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے لئے آج یا کل میں کوئی فرق نہیں ہے، ہمارے لئے گزشتہ 30 سال کے تمام دن اور راتیں ایک جیسی ہیں۔’
انھوں نے مزید کہا کہ ‘یہ فوج کا نہیں بلکہ ہمارا چوک ہے۔ ہم یہاں موجود ہیں اور کامیابی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم نے کرفیو کو توڑا ہے اور ہم تب تک ایسا کرتے رہیں گے جبکہ تک ملک کے انتظامات جمہوری حکومت نہ سنبھال لے۔’
واضح رہے کہ جمعرات کے روز سوڈان کے وزیر دفاع ایواد ابن اوف نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں بطور وزیر دفاع حکومت کے خاتمے اور اس کے سربراہ کی گرفتاری کا اعلان کرتا ہوں۔’
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک عبوری ملٹری کونسل2سال کے لئے معزول صدر عمرالبشیر کی جگہ ملک کا انتظام سنبھالے گی اور دو برس بعد انتخابات ہوں گے۔
وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں ملک کا آئین معطل کرنے اور فضائی حدود اور بارڈر کراسنگز کو تاحکم ثانی بند کئے جانے کے حوالے سے بھی بتایا تھا۔
عمر البشیرکے خلاف مظاہرے کیوں ہوئے؟
افریقہ کا سب سے بڑا اور اہم ملک سوڈان عمر البشیر کے 30 سالہ دور حکومت کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاج کے باعث مفلوج تھا۔ مظاہرین سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور ملک کی کمزور معیشت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر عمرالبشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
عمرالبشیر پر ’انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل عام‘ کے الزامات ہیں اور ماضی میں عالمی عدالت انصاف ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں