سکردو: سرکاری اداروں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے عوام کو زہریلا پانی پلانے کا منصوبہ تیار

سکردو: محمکہ تعمیرات عامہ بلتستان کے چیف انجینئر اور پی ایچ ای کے ایکسین اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے سکردو کے شہریوں کو صاف پانی مہیا کرنے کے پروجیکٹ میں کروڑوں روپے کا کرپشن کرکے زہریلا آلودہ پانی پلانے کرنے کا انکشاف ہوا ہے زرائع کے مطابق سکردو شہر میں 13 مقامات پر جو واٹر فلٹرشین پلانٹس لگایا جارہا ہے ان فلٹریش پلانٹس میں جو میٹریل استعمال کرنا تھا وہ ISO سے تصدیق شدہ میٹریل استعمال کرنے کا پی سی ون کے مطابق بھی ٹھیکیدار پابند تھا مگر اپ ٹھیکیدار اور محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر اور پی ایچ ای کے ایکسین کی ملی بھگت سے پی سی ون سے ہٹ کر ناقص میٹریل استعمال نہیں کرکے مقامی طور پر تیار ہونے والے غیر رجسٹرڈ میٹریل استعمال کرکے کروڑوں روپے کا کرپشن کیا جارہا ہے اور عوام کو صاف پانی کے نام پر زہریلا پانی پلانے کیلئے پلان تیار کرلیا گیا ہے سکردو کے باشعور طبقوں نے محسن گلگت بلتستان فورس کمانڈر گورنر گلگت بلتستان وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری سے اس اہم پروجیکٹ کا تحقیقات کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں