سکردو: پی ایم اے بلتستان نے یکم مارچ سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مکمل طور پر سروسز معطل کرنے کا اعلان کردیا

سکردو(صادق صدیقی سے) پاکستان میڈکل ایسوسی ایشن بلتستان نے یکم مارچ سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مکمل طور پر سروسز معطل کرنے کا اعلان کردیا پی ایم اے بلتستان کے عہدیداروں نے سکردو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے صوبائی حکومت ڈاکٹروں کے تحفظات اور مطالبات کے حل میں سنجیدہ نہیں سیکرٹری ہیلتھ کی سرپرستی میں محکمہ صحت میں تمام قواعدو ضوابط کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور سیکرٹری ہیلتھ ہی عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے پی ایم اے بلتستان کے صدر ڈاکٹر آصف رضا، سینئر ڈاکٹر ڈاکٹر نیاز علی، ڈاکٹر مہدی علی، ڈاکٹر ناصر، ڈاکٹر امان اور ڈاکٹر ابراہیم پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم نے سکردو میں پریس کانفرنس میں کہا پی ایم کیے مطالبات میں ڈاکٹروں کی مستقلی، سینیئر ڈاکٹروں کی حق تلفی اور پروموشن میں بے ضابگیوں کو ختم کرنے اور جو سینئر ڈاکٹرز ترقیوں کے منتظر ہیں انہیں ترقی دینے اور بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں، حکومت نے ہمارے مطالبات کو تسلسل کے ساتھ نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب نے مطالبات کے حق میں 15 جنوری سے احتجاج کا آغاز کیا 22 اور 29 جنوری تک مختلف ڈیڈلائن تک مطالبات حل کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئی مگر ایسا نہیں ہوا تاہم چیف سیکرٹری کے دورہ سکردو کے موقع پر انہوں نے جلد مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر 6 فروری گزرگئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس سے ڈاکٹروں کی تحفظات اور مشکلات بڑھتے جارہے ہیں ڈاکٹروں نے کہا اسوقت پورے گلگت بلتستان میں 120 کے قریب ڈاک-رز اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم ڈھائی سالوں سے مستقل کرنے کی یقین دہانیاں کی جارہی مگر عملی اقدامات نہیں کیا جارہا ہیں انہوں نےکہا ایک طرف بلتستان ریجن کو بجٹ کی تقسیم میں دیوار سے لگایا جارہا ہے تو دوسری جانب اسامیوں کی تقسیم بھی مکمل جانبدارانہ انداز میں کیا جارہا اسکے علاوہ بلتستان کے سینئر اور ایف پی ایس سی پاس ڈاکٹروں کو ترقی دینے میں حیلے بہانوں سے کام لیا جارہا ہے تو دوسری جانب گلگت ریجن کے ایف پی ایس سی فیل ڈاکٹروں کو قواعدو ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سئنیر بنایا جارہا ہے ۔بجٹ کی تقسیم میں پہلے گلگت ریجن کو 60 فیصد اور بلتستان کو 40 فیصد مل رہا تھا اب ترقیاتی بجٹ میں 85 فیصد گلگت میں خرچ ہورہا جبکہ بلتستان ریجن میں 15 فیصد بجٹ ہی پہ کام چلا رہا ہے انہوں نےکہا خالی پوسٹوں کی تقسیم میں بھی بلتستان ریجن کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جارہا پیپلز پارٹی کے دور میں گلگت بلتستان کے لئے ہیلتھ سیکٹر میں 15 پوسٹوں کی منظوری ملی تاہم اسے کئی سال دبا کے رکھا گیا اور بعد میں صرف 3 سو پوسٹیں بلتستان ریجن کو دیا گیا اسکے علاوہ حال ہی میں 108 پوسٹوں کی منظوری ملی تو اس میں سے 50 پوسٹیں سٹی ہسپتال گلگت، 34 نگر، 4 دیامر اور صرف 20 پوسٹیں بلتستان ریجن کو دیا گیا ان تمام نا انصافیوں کے باوجود بلتستان کے ڈاکٹرز عوام کو بھرپور سروسز دے رہے ہیں ڈاکٹروں نے کہا محکمہ صحت میں تمام خرابیوں کے زمہ دار سیکرٹری ہیلتھ ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بھی ان خرابیوں کا ایک خاموش کردار لگ رہا ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ خود صوبائی وزیر صحت بھی ہے اس لئے ان تمام معاملات کا علم ہوتے ہوئے کچھ نہ کرنا ما یوس کن عمل ہے ڈاکٹروں نے کہا ہے پیر سے مطالبات کے حق میں روزانہ کی بنیاد پر ایک گھنٹہ کام چھوڑ ہڑتال کے آغاز کا اعلان کردیا ہے ڈاکٹروں نے یکم مارچ تک حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے حل نہ کرنے کی صورت میں یکم مارچ سے مکمل کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا ہے ڈاکٹروں نے بلتستان میں سٹی ہسپتال کے جلد قیام ایمرجنسی میں مفت ادویات اور سرجری کے سامان کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے اسوقت سکردو ہسپتال جو کہ ابتک 145 بیڈ ہسپتال ہے ایک ایک بیڈ پر 3 تین مریضوں کو رکھا جارہا ہے جس سے مریضوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اسکے علاوہ سہولیات سے آراستہ آئی سی یو اور وینٹی لیٹر نہ ہونے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں