سیلف میڈی کیشن: روک تھام کیوں ضروری ہے؟

بہترصحت کو عام کرنے کے لیے جعلی ادویات اور معالج کے بعد ‘سیلف میڈی کیشن’ کی روک تھام کرنا ضروری ہے۔

پرانے وقتوں سے گھرانوں میں بڑے بوڑھوں کے مشورے سے بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ایسے تجربات سے سینکڑوں بچوں کی زندگیاں داو پر لگ جاتی ہیں۔

ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کسی بھی دوا کے استعمال سے وقتی افاقہ تو ہوتا ہے مگر بعد میں کئی بیماریاں آدمی پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

سیلف میڈی کیشن اور اس کے نقصانات:
اسپتال جانے اور ڈاکٹر کی فیسوں سے بچنے کے لیے کسی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوائیوں کا استعمال سیلف میڈی کیشن کہلاتا ہے۔

کسی بیماری کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر گھریلو ٹوٹکوں اور حکیموں کے مشوروں پر انحصار کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

دواؤں کے غلط استعمال، خوراک کی زیادتی اور دواؤں کے ضمنی اثرات کی وجہ سے اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔

سیلف میڈی کیشن اور پاکستان:
حال ہی میں سپریم کورٹ نے پشاور میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کی ہدایات کے بغیر ادویات کے استعمال کی روک تھام تاحال نہیں کی جاسکی۔

ڈرگ سیلرز کا کہنا ہے کہ بنا نسخے کے دوائی نہیں دیتے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں یہ نظام برسوں سے جاری ہے۔

فیصل آباد سے ڈاکٹر روحانہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ دوستوں کے مشوروں سے دوا لیتے ہیں ۔ سیلف میڈی کیشن سے سب سے زیادہ آنکھیں، گردے اور معدہ متاثر ہونے کے کیس سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر روحانہ کا مزید کہا کہ سیلف میڈی کیشن سے متاثرہ مریض کا علاج کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ استعمال شدہ دوا کے اثرات کو فوری طور پر زائل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اسلام آباد پمز اسپتال کے ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا ہے کہ دواؤں کے ڈبوں پر واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال نہ کریں۔

پاکستان میں سیلف میڈی کیشن کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوائیں کھانے سے سالانہ ہزاروں پاکستانی مر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں سیلف میڈی کیشن کی صورت حال:
سیلف میڈی کیشن کی روایت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں قائم ہے۔ سالانہ لاکھوں لوگ اس عادت کی وجہ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔

امریکا میں ہرسال اسی ہزار افراد غلط ادویات کے استعمال سے مرتے ہیں۔ جب کہ تیرہ فیصد آبادی سیلف میڈی کیشن کی عادت میں مبتلا ہے۔

برطانیہ میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوا کے لین دین کے حوالے سے سخت قوانین ہیں۔ اس کے باوجود وہاں نو فیصد آبادی خود سے دوائیں خریدتی ہے۔

دوائیاں اپنی اور دوسروں کی مرضی سے لینے کی عادت ترک کر دیں۔ کسی بڑی مصیبت کا شکار ہونے سے پہلے احتیاط کرلیں۔ کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں