سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا

اسلام آباد (سنہرادور): سینیٹ انتخابات 2018 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے. کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف سر فہرست ہے.

ایوان بالا کے ممبران کے انتخاب کے لیے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دیا گیا، جہاں عوامی نمائندوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایوان بالا کی خالی ہونے والی 52 نشستوں کیلئے 131 امیدوار میدان میں ہیں ۔ جن میں پیپلز پارٹی کے 20، ایم کیو ایم پاکستان کے 14، تحریک انصاف کے 13، پاک سرزمین پارٹی کے 4 اور 65 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ آزاد امیدواروں میں مسلم لیگ (ن) کے وہ 23 امیدوار بھی شامل ہیں جو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑسکےکیونکہ عدالتی فیصلے کے بعد انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی۔

سینیٹ کے ان اتخابات کے بعد پاکستانی سیاست کے بعض بڑے نام پارلیمانی سیاست سے باہر ہو جائیں گے اور بہت سے نئے چہرے بھی سینیٹ میں سامنے آئیں گے۔

وفاق کے نتائج

مشاہد حسین سید آزاد امیدوار کی حیثیت سے ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر سینیٹر منتخب جبکہ جنرل نشست پراسد جونیجوآزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے۔

پنجاب کے نتائج

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پنجاب کی جنرل نشست سے آزاد امیدوار آصف کرمانی ، زبیر گل ، مصدق ملک ، مقبول احمد ، ہارون اختر، محمود الحسن کامیاب ہوئےجبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری محمد سرور نے بھی کامیابی حاصل کی۔ پنجاب کی ٹیکنو کریٹ سیٹ پر اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم ، پنجاب سے اقلیت کی آزاد نشست سے کامران مائیکل ، پنجاب سے خواتین کی آزاد کی نشست سے نزہت صادق ، سعدیہ عباسی کامیاب ہو گئیں۔

سینیٹ میں پنجاب کی 12 نشستوں میں سے سات جنرل نشستیں، دو خواتین کی مخصوص نشستیں، دو ٹیکنوکریٹ اور ایک اقلیتتی نشست پر الیکشن ہوا۔ پنجاب سے ان 12 نشستوں پر الیکشن کے لیے 20 امیدوار آمنے سامنےآئے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 11 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ ایک سیٹ پر پی ٹی آئی کے چوہدری سرور نے میدان مارا۔ پنجاب اسمبلی میں 368 اراکین نے ووٹ ڈالے اور یہ 100 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ہے۔

خیبر پختونخواکے نتائج

سینیٹ کی جنرل نشستوں کے انتخابات میں کے پی سے پی ٹی آئی کے فیصل جاوید، فدا محمد، ایوب آفریدی جمعیت علمائےاسلام (ف) کے طلحہ محمود، پی پی پی کے بہرمند تنگی اور مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ پیر صابرشاہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جماعت اسلامی کے مشتاق احمد خان بھی جنرل کی سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر اعظم سواتی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر اور مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار دلاور خان منتخب ہوئے ہیں، پی پی پی کی روبینہ خالد اور پی ٹی آئی کی ایم پی اے مہر تاج روغانی بھی سینیٹر بننے میں کامیاب ہوگئی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار مولانا سمیع الحق اور انیسہ زیب کامیاب نہیں ہو سکے۔

فاٹا کے نتائج

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق فاٹا کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمان اور مرزا محمد آفریدی ہیں۔ فاتح ارکان 7 ، 7 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

فاٹا سے 11 اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا تاہم ان میں سے 8 اراکین نے ووٹ ڈالے۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تحفظات کے پیشِ نظر ووٹ نہیں ڈالے۔

سندھ کے نتائج

سندھ کی 12 نشستوں میں سے 10 نشستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہو گئی ہے۔ جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو، محمد علی شاہ، مرتضیٰ وہاب جاموٹ، رضا ربانی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کامیاب ہوگئے ہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کے فروغ نسیم بھی جنرل کی سیٹ پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایک نشست پرفنکشنل لیگ کے مظفر حسین شاہ کو کامیابی ملی ہے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پیپلز پارٹی کے سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری سینیٹر منتخب ہوگئے۔ اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے انور لال ڈین جبکہ خواتین کی مخصوص نشست پر پی پی پی کی ہی کرشنا کوہلی اور قرۃ العین مری الیکشن جیت گئیں۔

بلوچستان کے نتائج

بلوچستان کی 7 جنرل نشستوں میں سے 5 پر آزاد امیدوار جبکہ دو پر سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔ جنرل نشستوں پر آزاد امیدوار احمد خان، صادق سنجرانی، انوارالحق کاکڑ، کہدہ بابر، پشتونخواہ میپ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یوسف کاکڑ جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولوی فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے محمد اکرم سینیٹر منتخب ہوگئے۔ ٹیکنوکریٹس کی 2 نشستوں میں سے ایک پر نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور دوسری پر ن لیگ کے حمایت یافتہ نصیب اللہ بازئی کامیاب ہوگئے۔ خواتین کی نشستوں پر پشتونخوا میپ کی عابدہ عظیم اور آزاد امیدوار ثنا جمالی کامیاب ہوئیں۔

بلوچستان سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے 25 امیدوارسامنے آئے۔

وفاق اور پنجاب میں کامیابی حاصل کرنے پر مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اللہ کا شکر ادا کیا۔

واضح رہے کہ آج کے سینیٹ الیکشن میں کچھ ارکان اسمبلی نے حصہ نہیں لیا ان میں کنور نوید جمیل اور ڈاکٹر ناہید کے علاوہ مسلم لیگ ن کے عبدالقادر بلوچ اور جام کمال شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کے طاہر اقبال اور نثار جٹ نے بھی ووٹ نہیں ڈالا دونوں مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ عمران خان، عارف علوی اور اسد عمر بھی ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی ووٹ نہیں ڈالا کلثوم نواز بیماری کے باعث اب تک حلف نہیں اٹھا سکیں جس کی وجہ سے وہ بھی پولنگ میں شریک نہیں ہوسکیں۔ چوہدری پرویزالہی نے بھی سینیٹ انتخابات کیلئے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں