سینٹ انتخابات کے بعدآصف علی زرداری اور عمران خان کا ایک اور بڑا سرپرائز،نگران وزیراعظم کون ہوگا؟معاملات طے پاگئے

لاہور(نیوزڈیسک): نگران وزیراعظم کے معاملہ پر آصف زرداری اور عمران خان میں بہت کچھ طے ہونے کی اطلاعات ہیں نجی ٹی وی ’’دنیا نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کے ذمہ دار حلقوں میں نئے نگران وزیراعظم کے نام کیلئے بھی چیئرمین نیب کی طرح کسی ریٹائرڈ جسٹس کا نام گردش میں ہے کیونکہ سمجھا جا رہا ہے کہ نئی صورتحال میں جہاں عدلیہ کا کردار اہم ہے وہاں نئے نظم و نسق میں بھی ریٹائرڈ ججز کو ہی آگے لا کر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جائیں گے،دوسری جانب ن لیگ بھی چیئرمین سینیٹ کی تقرری کے بعد ہر معاملے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ ن لیگ کے حلقوں کے مطابق آئندہ نگران وزیراعظم کیلئے مسلم لیگ ن نے ابھی سے مشاورت شروع کر رکھی ہے اور ہر قیمت پر اپنا نامزد کردہ نگران وزیراعظم بنوانا چاہتی ہے ، اس لئے وہ کسی غیر جانبدار اور سب کیلئے قابل قبول قومی شخصیت کی تلاش میں سرگرم ہے۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کیلئے نواز شریف سے نہیں بلکہ وزیر اعظم سے بات ہو گی ، اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اوروہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے نام دینگے ،چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر نواز شریف سے کسی طرح کی بات ہی نہیں ہوئی ۔ شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے لاہور آمد کے موقع پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شریف آدمی ہیں انہیں معلوم ہی نہیں کہ کونسا قانون ہے ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کی حالت پررحم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ شیری رحمان تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں وہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور سینیٹ میں بطور قائد حزب اختلاف بہترین کردار ادا کریں گی ۔ انہوں نے نوازشریف کے اس سوال کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پیپلزپارٹی سے بات نہیں ہو گی کہ سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کب کہا کہ ان سے بات ہو گی ۔ نگران سیٹ اپ کیلئے نوازشریف سے نہیں بلکہ وز یر اعظم سے بات ہو گی،وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشاورت کرنی ہے اور پھر وہ اپنی جماعتوں کوا س سے آگاہ کرتے ہیں۔ بطور قائد حزب اختلاف اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اور وہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے اپنے نام دیں گے ۔ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف ناموں پر متفق نہ ہوئے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا جہاں چھ حکومت اور چھ قائد حزب اختلاف کے لوگ ہوں گے اور اگر یہاں بھی اتفاق رائے سے فیصلہ نہ ہوا تو پھر معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائے گا۔ انہوں نے نواز شریف کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں دھوکہ دہی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف صاحب بتائیں پیپلزپارٹی نے ا ن سے کب رابطہ یا وعدہ کیا تھا کہ ووٹ دیں گے ۔ان کے اپنے لوگوں نے دھوکہ دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں