سی پیک عوامی منصوبہ کیسے؟ …………… تحریر: شہزاد سید

سی پیک عوامی منصوبہ کیسے؟
……………………………………………………تحریر: شہزاد سید

پاکستان طویل عرصے سے معاشی ، خوشحالی کی خاطر سرگرم عمل ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک اجتماعی اقتصادی ترقی و خوشحالی ایک خواب کی طرح ہر پاکستانی دیکھتا آرہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس ملک یا فرد کی معاشی حالت بہتر نہ ہو وہ ترقی کے سفر سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہونے والی ناانصافیوں سے ابھی تک پاکستانی قوم و حکومت نبرد آزما ہے۔ سیاسی ، فرقہ وارانہ ، معاشی اور دفاعی مشکلات نے آزادی سے لیکر 2017 تک جان نہیں چھوڑی ۔ لیکن تقسیم ہند سے لیکر 2017 تک پھر بھی پاکستان نے بے پناہ ترقی کر لی ہے۔ جو تفصیلی بیان کی جائیں تو الگ ایک موضوع بن جائے گا۔ مگر مشکلات اور ترقی کا سفر بڑھتے ہوئے قدموں کو اکثر زنجیر کی صورت محسوس ہوتا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس دنیا میں رہنے کے لیے یہ روز اول سے محسوس کرلیا تھا کہ معاشی ترقی کے بغیر کوئی ملک و قوم ترقی نہی کرسکتی۔ اسی لیے ریاست پاکستان کسی اچھے موقعہ کی تلاش میں رہی ۔ اس کے لیے یورپ ، امریکہ اور دیگر عالمی سیاسی و اقتصادی طاقتوں سے روابط بڑھائے ، تعلقات کو فروغ دیا لیکن یہ گرمجوشی عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی ہوس کا اکثر شکار ہوتی رہی ہے۔ پاکستان پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو انہی ممالک نے اپنے مفادات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کےدشمنوں سے دوستی و مراسم کو اولیت دی ۔ بحری بیڑے ، عالمی مالی امداد ، دفاعی ساز و سامان ، ثقافتی و سماجی ترقی کے نام پر امداد ۔ ساری قوم ان وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کرتی رہی ہے، اگر کچھ ملا تو وہ قسطوں میں عالمی اداروں کے قرضوں کی واپسی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔ جو قطرہ ٹپکا وہ دفاعی نظام ، سکیورٹی اور لاء اینڈآرڈر کے لیے کوششوں میں ضیاع ہوتا رہا۔ عوام پھر دوستی کے وعدوں کو مستقبل کا روشن سفر سمجھ کر انتطار کرتے رہے۔
بالآخر یکطرفہ محبت عالمی برادری کے ہوس پرستوں سے کامل نہ ہوسکی ۔ پاکستان نے دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیا جو کہ اس کا بناسدی حق بھی تھا۔ آخر کار مملکت پاکستان نے قدیم دوست چین کے ساتھ اپنے تعلقات کومعاشی و اقتصادی ترقی کے لیے اولیت دینے کا عزم کرتے ہوئے پاک چائنا دوستی کو ہمالیہ کی بلندیوں پر لے جانے کا فیصلہ کرلیا ، پھر عالمی طاقتوںکو جو کہ دنیا کو اپنے معاشی ، ثقافتی ،اورعسکری بالادستی میں غرق کرچکے تھے ، بے حد تکلیف ہوئی ۔ بالکل وہی رویہ جو ایک امیر بے وفا دوست اپنے غریب دوست سے روا رکھتا ہے اُسی بے گانہ جذبہ کو پروان چڑھانے کو ہی وہ دوستی کہنے پر بضد ہیں ۔ لیکن شمالی کوریا کے سربراہ نے امریکی صدر کےحالیہ بھیانک بیانات پر خوبصورت جملہ کہا کہ ” امریکی صدر کو غلط فہمی ہوگئی ہے ، دنیا برائے فروخت نہیں ” اور یہی آواز ہر آزاد و خودمختار قوم کی ہے۔ پاکستان کے عسکری سربراہ نے گذشتہ کئی سال قبل یہی کہا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیں ایسی امداد کی ضرورت نہیں جو جھوٹ اور جھوٹی برتری پر مبنی ہو۔
پاکستان کبھی تنہا ترقی نہیں کرسکتا یہ سچائی ہے لیکن دوستوں کی نظریں بدل جائیں تو دوست بھی خود احتسابی ضرور کرتے ہیں۔ بزرگوں کا محاورہ ہے کہ ” اِک دَر بند تے سو دَر کُھلے” عالمی ہوس پرست طاقتوں کو شائد یہ یاد نہ تھا ۔ پاکستان نے چین سے سچی دوستی اور مضبوط تعلقات کو دنیا کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کردیا ہے۔ دنیا سمجھ گئی ہے کہ دوستی کہتے کسے ہیں؟ ہر پاکستانی سمجھ گیا ہے کہ دوست ہو تو ایسا! اس کا مظہر عظیم دوست چائنہ ہے۔ سب چھوڑ گئے مگر چین نے نہ چھوڑا ۔ سی پیک کی شکل میں طویل پاکستانی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی (طاقتوں ) ہوس پرستوں کو بے چینی لاحق ہوچکی ہےمگر پاکستانی قوم اور دفاعی ادارے ملکی ترقی کے لیے پُر عزم ہیں اور اس سی پیک کی جلد از جلد عملداری اور اس کے ثمرات سے بہرہ مند ہو نے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ عالمی طاقتوں اور یورپی ممالک کو چاہیے وہ اپنے حالیہ رویہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے پاکستان جو جغرافیائی ، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے سب کے مفادات کا مرکز ہے، تسلیم کرلیں اور اس ترقی و خوشحالی کے سفر میں اپنا حصہ بھی ڈالیں تاکہ اُنکی اقوام ، عوام اور معیشت مستقبل میں عزت و وقار سے معاشی خوشحالی سے فیض مند ہوسکیں۔
اس سی پیک کے حوالے سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں اور تبصرے سامنے آرہے ہیں ، حکومت نے بھی اس سی پیک کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں جس کی وجہ سے عوامی خدشات موجو ہیں۔ حکومتی حلقے کچھ سکیورٹی اور حفظ ماتقدم کے تحت اس منصوبے کی جزئیات پر بحث نہیں کررہے۔ عوام پاک فوج کے بھروسے پر سی پیک کو ملکی و قومی مفاد میں قرار دے کر انتظار میں ہیں ۔ پاکستانی عوام کے خدشات بجا ء ہیں کیونکہ آج تک وہ سیاسی نعروں پر گزارا کرتے آرہے ہیں۔ امریکہ سے اتحادی بننے کے فوائد عوامی سطح پر کم ظاہر ہوئے ۔ اس لیے عوام سیاستدانوں کی گفتگو پر اعتماد نہیں کرتے ۔ اب اقتصادی ترقی کی توقعات فوج پر لگ گئی ہیں، اور اگر اس اعتماد سازی میں فوج نمایاںکردار ادا نہ کرسکی تو عوام کو سمجھانا مشکل ہوجائیگا ۔ سیاسی ، مذہبی ، اقتصادی اور ثقافتی حلقے بھی مختلف سوالات اُٹھا رہے ہیں ، جسکی زیادہ وجہ تفصیلی یا جزئیات سے لا علمی ہے اور اس منصوبہ کے ثمرات و نتائج پر تبادلہ خیال نہ ہونا بھی ہے۔
لہذا ملکی دانشوروں اور حکومتی ذمہ داران کو اس حوالے سے سی پیک منصوبہ پر سیر حاصل بحث کا دروازہ کھولنا چاہیے تاکہ سی پیک منصوبہ جو ملکی مفاد کا محور ہے اس پر عوامی سطح پر ایک رائے اکثریت کی بنیاد پر قائم ہوسکے اور یہ منصوبہ پاکستانی دفاعی اقتصادی اداروں تک نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کی اُمنگوں کا ترجمان بن سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں