سی پیک نے پاکستان کو دنیا کا پسندیدہ ملک بنادیا

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال کہتے ہیں ملک میں تیز تر ترقی، خوشحالی کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے، سی پیک نے پاکستان کو دنیا کا پسندیدہ ملک بنا دیا ہے، وژن 2025ء کے ذریعے پاکستان دنیا کی بہترین 25 اور وژن 2047ء کے ذریعے 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے طویل المیعاد منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ احسن اقبال نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے طویل المیعاد منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر ژاﺅ ژنگ سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے عہدیدار، کاروباری اور صنعت کے نمائندے، ماہرین تعلیم، ذرائع ابلاغ اور دوسری ممتاز شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات سے ملک تیزی سے ترقی کررہا ہے، دنیا کا ہر مستند جریدہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہا ہے، کیا اس کو تبدیلی نہیں کہیں گے، تبدیلی تو آرہی ہے کہ سی پیک نے پاکستان کو دنیا کا پسندیدہ ترین ملک بنادیا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ایشیاء کی بہترین اسٹاک ایکسچینج قرار دیا جارہا ہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔


وہ بولے کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے طویل المیعاد منصوبے کا باضابطہ آغاز کردیا گیا، اس منصوبہ سے سماجی، اقتصادی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت سمیت مختلف نئے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا موقع ملے گا، سی پیک منصوبہ دنیا میں جاری سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے، 55 ارب ڈالر مالیت سے زائد کا پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو تیز رفتار اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر لے جائے گا، طویل، کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کا منصوبہ جس کی تکمیل دہشت گردی کیخلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کیلئے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ سی پیک کے قلیل المدتی منصوبے 2017-18ء جبکہ طویل المدتی منصوبے 2020ء تا 2030ء تک مکمل ہوجائیں گے، چین صنعتی تعاون پاکستان کو خطہ میں پیداواری مرکز بنادے گا، صنعتی زونز کے قیام سے مقامی صنعتکاروں کیلئے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے، چین کی صنعت پاکستانی صنعت کیلئے خطرہ نہیں بلکہ تجربہ مہارت اور سیکھنے کے مواقع لائے گی، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے پاکستان کا صنعتی شعبہ مستحکم ہوگا، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے بیروزگاری کا خاتمہ، مختلف شعبوں میں معلومات کا تبادلہ اور مہارت میں اضافہ ہوگا۔ اے پی پی

اپنا تبصرہ بھیجیں