شادی سے پہلے بھابھی کا مقام” پلکیں“ ، شادی کے بعد ”جوتیاں“

شادی کے بعد لڑکا اس ترازو کی مانند ہوتا ہے جسے ہر طور توازن رکھناپڑتا ہے مگرزمینی حقیقت یہ ہے کہ لڑکا آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ہے
نفیسہ زبیر ۔ جدہ
آج کل ہر جگہ ساس اور بہو کے جھگڑے اوران کی برائیاں ہی سنی جاتی ہیں۔ شادی سے پہلے ساس اور بہو ایک دوسرے کو سورج اور چاند تک سے تشبیہ دیتی ہیں مگر شادی کے کچھ عرصے بعد دونوں ایک دوسرے کی جانی دشمن بن جاتی ہیں اور ایک دوسرے کی برائی اور کیڑے نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔
میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کسی تیسرے فرد کے سامنے اس طرح کی باتیں کرنے سے دونوں خاندانوں کی بدنامی ہوتی ہے اوراخلاقی انحطاط کا پتہ چلتا ہے۔
جب لڑکے کی ماں بہنیں لڑکی ڈھونڈتی ہیں تو انکی تمام تر توجہ لڑکی کی خوبصورتی اور خاندان کے ہم پلہ ہونے پر مبذول ہوتی ہے۔ وہ یہاں تک کہہ دیتی ہیں کہ خواہ لڑکی کو کچھ نہیںآتا ، پھر بھی کوئی بات نہیں، وہ بہو بن کر ہمارے گھر آئے گی توسب کچھ سیکھ لے گی مگرہمارے معاشرے کی عام روایت یہی ہے کہ جب لڑکی بیاہ کر پیا گھر سدھارتی ہے تو کچھ دن تک تو معاملہ درست رہتا ہے جیسے ہی خوبصورتی ”سائڈ لائن “ ہونا شروع ہوتی ہے تو لڑکے کی وہی ماں بہنیں جو کل تک یعنی شادی سے پہلے یہ کہتے نہ تھکتی تھیں کہ ہم بہو اور بھابھی کو پلکوں پر بٹھائیں گے، وہ پلکوں شلکوں کی باتیں بھول بھلا کربھابی کو” جوتوں میں بٹھانے“ کی سوچنے لگتی ہیں اور پھروہی ماں بہنیں جن کا کل تک مطمع نظر یہ تھا کہ بہو رانی ہمارے گھر آکر سب سیکھ لے گی، وہ ”یو ٹرن“ لے لیتی ہیں اور” بیانیہ“ یوں بدلتی ہیں کہ تمہاری ماں نے تمہیں کچھ نہیں سکھایا ، ہمیں کیا خبر تھی کہ تم انتہائی پھوہڑ ہو۔الغرض اس طرح کی باتیں کرکے لڑکی کو ”ٹارچر“ کیا جاتا ہے جو کسی طور درست نہیں۔ ساس، بہو اور نند کی اس مثلث میں سب سے بڑا کردار لڑکے کا ہوتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکا اس ترازو کی مانند ہوتا ہے جسے ہر طور توازن رکھناپڑتا ہے مگرزمینی حقیقت یہ ہے کہ لڑکا آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ہے چنانچہ اس سے فیصلہ درست نہیں ہوپاتا۔ اسے بیوی کے سوا گھر کے تمام افراد سادہ لوح، معصوم اور بے قصور دکھائی دینے لگتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ غلطی یکطرفہ ہوتی ہے کیونکہ بلا شبہ تالی دونوں ہاتھ سے ہی بجتی ہے۔
بعض اوقات ساس اچھی ہوتی ہے تو بہو بری عادت کی مالک ہوتی ہے اور کہیں ساس بری ہوتی ہے تو بہو اچھے اوصاف کی حامل ہوتی ہے مگر بہت کم ساسیں اور بہوئیں ایسی ہوتی ہیں جو سہیلیاںبن کر رہتی ہیں اور ایک دوسرے کا خیال ایسے رکھتی ہیں جیسے ماں بیٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح کی ساس اور بہو دونوں ہی لمبی عمر پاتی ہیں کیونکہ وہ ہر وقت خوش رہتی ہیں اورایک دوسرے کو خوش رکھنے کا فن جانتی ہیں۔
ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اگر خود خوش نہیں ہوتے تو چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی خوش نہ رہے ، ہم ہر گھر میں آگ لگانا چاہتے ہیں۔ یہ خرابی ہمیں مزید نقصان کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی سے گھر کا شیرازہ بکھرتا ہے اور انجام کار خواتین گھر کے مردوں کودیوار سے لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور مرد حضرات بے چارے اس موقع پر کھڈے لائن ہونے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ مرد کا سب سے بڑا قصور یہی ہے کہ وہ کھڈے لائن ہوکر اپنے اختیارات کسی اور کو سونپ دیتا ہے ۔ اسے مرد ہونے کے ناتے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے مستقل مزاجی سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرانا چاہئے مگر وہ پہلی ہی نشست میں شکست تسلیم کرلیتا ہے اور طوفان کو خود ہی گھر میں داخلے کا راستہ فراہم کردیتا ہے پھر یہ طوفان گھر کی تمام خوشیاں اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔بہت سے خاندان معمولی شکل اور غریب گھرانے کی لڑکی سے رشتہ کرکے اس کے گھر والوں کو ساری زندگی کے لئے اپنے” احسان“کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں اور لڑکی بھی بڑے گھر میں آکر ہر کام سر جھکا کرنے کی عادی بن جاتی ہے۔ بہت کم گھرانے ایسے ہوتے ہیں جو غریب گھر کی لڑکی کو کسی احسان اور تکبر کے بغیراپنے یہاں بیاہ کر لاتے ہیں ۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔وہ یہ کام صرف اللہ کریم کی رضا اور خوشنودی کیلئے کرتے ہیں۔ کاش ہمارے یہاںسب لوگ اس چھوٹی سی بات کو سمجھ لیں تو بہت سے گھر خوشحال اور بہتر زندگی کا نمونہ بن جائیں ۔لڑکی اور لڑکے والوں سے ایک یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ خدارا صورت پر فریفتہ نہ ہوں،سیرت دیکھیں کیونکہ سیرت ہی صورت کی خوبصورتی بڑھاتی ہے۔اگر آپ اچھے ہونگے تو آپ سے ہر کوئی اچھا سلوک کریگا ۔اگر آپ دکھاوے کے طور پر اچھا بننے کی ”اداکاری “ کریں گے توہوسکتا ہے کہ سامنے بھی ویسے ہی لوگ آپ کو ملیں پھر سر پیٹنے اور زندگی بھر پچھتانے کے سوا آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔اس لئے کسی کو دھوکہ نہ دیں کیونکہ یہ فریب آپ دوسرے کو نہیں خود کو دیتے ہیں۔ اس سے پرہیز ہی بہترکریں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں