شعر سنانے پر بضد شاعر پر جوش ملیح آبادی کاایسا زوردارحملہ کہ پھر دیر تلک یہی کام ہوتا رہا

لاہور (آن لائن) ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے اپنی آپ بیتی’’ سرگزشت‘‘ میں جوش ملیح آبادی کی کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جوش میرے غریب خانے پر تشریف فرما تھے ۔شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کا نظارہ، سمندر کی لہریں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، جوش صاحب ایسے کیف کے عالم میں شعرپڑھ رہے تھے کہ خود ان پر بھی کیفیت طاری تھی۔
بس جوش اور میں، میں اور جوش اور کیفیت میں ڈوبے ہوئے شعروں کی بارش کہ اتنے میں حکیم صاحب مرزا حیدر بیگ دہلوی تشریف لے آئے۔
جوش صاحب کی طبیعت کا دریا روانی پر ہو تو محفل میں زبان کھولتے ہوئے بڑوں بڑوں کا زہرہ آب ہوتا ہے مگر حکیم صاحب پھر حکیم صاحب ہیں۔ فرمایا ’’جوش صاحب ، میرا بھی ایک شعر سنئے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے خاص اسی مجلس کے لئے لکھا ہے۔ عرض کرتا ہوں۔ہیں جی، بخاری صاحب عرض کرتا ہوں۔ ہیں جی جوش صاحب عرض کرتا ہوں، عرض کیا ہے۔
’’نگاہ و قلب میں جب تک سرور ہوتا ہے۔‘‘
جی جوش صاحب۔
’’نگاہ و قلب میں جب تک سرور ہوتا ہے۔‘‘
ملاحظہ فرمائیے بخاری صاحب۔
’’نگاہ و قلب میں جب تک سرور ہوتا ہے۔‘‘
عرض کرتا ہوں جوش صاحب۔
’’نگاہ و قلب میں جب تک سرور ہوتا ہے۔‘‘
جوش بولے نے پہلے تیکھی نظر سے انہیں دیکھا ،پھر یہ زوردار مصرعہ چھوڑا
’’یہ بندہ والد عبدالغفور ہوتا ہے۔‘‘
’’کیوں جی حکیم صاحب‘‘
’’یہ بندہ والد عبدالغفور ہوتا ہے۔‘‘
مت پوچھئے جوش صاحب کی اس تکرار اور کیفیت کا کیا خوب لطف اٹھایا گیا .

اپنا تبصرہ بھیجیں