شمالی کوریا کو تیل سپلائی کرنے کا شبہ، بحری جہاز تحویل میں

 جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پابندیوں کا شکار شمالی کوریا کو تیل سپلائی کرنے کے شبہ میں ایک بحری جہاز کو تحویل میں لیا ہے۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمالی کوریا کے متعلق اس تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ پیانگ یانگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عائد پابندیوں سے بچنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے ساحلی محافظوں کا کہنا ہے کہ 5 ہزار 460 ٹن گنجائش کے حامل پی پائنیر نامی جہاز کو اکتوبر سے بوسان بندرگاہ پر روک رکھا گیا ہے۔ جہاز کے متعلق شبہ ہے کہ وہ ستمبر 2017 میں شمالی کوریا کو ڈیزل فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ سمندری حدود کی حفاظت سے متعلق دستوں کے ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ جہاز نے مشرقی چین کی بین الاقوامی سمندری حدود میں کسی دوسرے جہاز کو تیل مہیا کیا ہے۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کتنا تیل فراہم کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہیپ نے نام ظاہر کئے بغیر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جن جہازوں نے تیل وصول کیا ان کے نام کم ان سان اور یوسن ہیں۔ کم ان سان کو جہاز سے جہاز کے ذریعے تیل کی سپلائی سے متعلق شمالی کوریا کا فعال ترین جہاز شمار کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے گذشتہ مہینے نام لئے بغیر اپنے ایک رکن ملک کے حوالے سے کہا تھا کہ شمالی کوریا تیل کے حصول کے لئے اپنے 23 بحری جہازوں کو استعمال کر رہا ہے۔ اب تک حاصل کئے گئے تیل کی نصف مقدار 6 جہازوں کے ذریعہ منتقل ہوئی ہے جس میں کم ان سان نامی ٹینکر شامل ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث ہونے پر جنوبی کوریا کا کوئی جہاز پکڑا گیا ہے۔
کورین کوسٹ گارڈز کے ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ سمندری حدود کے محافظوں کی جانب سے معاملہ قانونی ماہرین کو بھجوایا گیا ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شمالی کوریا کو تیل منتقل کرنے والے جہاز کے کپتان اور انتظامیہ کے خلاف میری ٹائم ٹرانسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی کی کارروائی کی جائے۔
کوسٹ گارڈ کے دونوں نمائندوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی قوانین انہیں میڈیا سے گفتگو کی اجازت نہیں دیتے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا تھا کہ شمالی کوریا ایک جہاز سے دوسرے جہاز کو تیل اور کوئلے کی منتقلی کے ذریعے عالمی ادارہ کی منظور کردہ قراردادوں کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں