شہبازشریف کی مسلم لیگ کا چئیرمین بننے کی راہ ہموار،پارٹی پرمکمل کنٹرول اورملکی اقتدارہاتھوں میں

اسلام آباد (سنہرادور): سابق وزیراعظم محمد نواز شریف كو اعتماد میں لیتے ہوئے مسلم لیگ نونون کو ایک بار پھر یکجا کرنے کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وہ رواں ہفتے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار احمد سمیت دیگر مركزی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گے
خادمِ پنجاب شہباز شریف کے لیے مسلم لیگ نون کا چئیر مین بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔انہوں نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف كو اعتماد میں لیتے ہوئے مسلم لیگ نونون کو ایک بار پھر یکجا کرنے کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وہ رواں ہفتے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار احمد سمیت دیگر مركزی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گےجس کے بعد مسلم لیگ نون کی نئی شکل ابھر کر سامنے آئے گی۔

باوثوق ذرائع كے مطابق وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے عملی طور پر پارٹی كی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔

مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ آج شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرے گی جبکہ پارٹی کی جنرل کونسل کے 2 ہزار ارکان 40 روز کے اندر اجلاس بلا کر ا نہیں مستقل صدر بنائیں گے۔

اس تناظر میں انہوں نے نہ صرف ناراض لیگی دھڑوں كو منانے كا ارادہ كیا ہے بلكہ پارٹی كے اندر پائی جانے والی اختلافی صورتحال كو كنٹرول كرنے كا بھی عزم كیا ہے۔ اس سلسلے كی پہلی كڑی میں رواں ہفتے ہی محمد شہباز شریف اور چودھری نثار احمد كی اہم ملاقات متوقع ہے جس میں شہباز شریف بھرپور اعتماد كے ساتھ چودھری نثاراحمد كو پارٹی كی اہم ذمہ داریاں سونپیں گے۔

ذرائع كے مطابق محمد شہباز شریف نے ناراض دھڑوں كو منانے كے حوالے سے محمدنواز شریف كو اعتماد میں لیتے ہوئے تمام معاملات كو معمول پر لانے كی یقین دہانی بھی كرادی ہے۔

اس سلسلے میں مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کاا جلاس پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ہو گا جس میں 120 سے زائد ارکان شرکت کریں گے ،قائم مقام صدر منتخب ہونے سے قبل شہباز شریف کو پارٹی کا سینئر نائب صدر بنایا جائے گا جبکہ پنجاب کی صدارت کیلئے حمزہ شہباز اور سعد رفیق کے نام زیر غور ہیں۔

نائب صدر کا فیصلہ بھی متوقع ہے ،اجلاس میں مرکزی جنرل سیکرٹری کے عہدے کے انتخاب کا بھی امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نواز شریف کو پارٹی عہدے سے ہٹانے اور عدالتی فیصلوں کیخلاف قراردادیں منظور کی جائیں گی ،سینیٹ الیکشن سے مسلم لیگ ن کو آؤٹ کرنے پر قرار داد مذمت بھی منظور کی جائے گی،اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کیخلاف مختلف اداروں کے ہتھکنڈوں کی مذمت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہاتھ دھونا پڑا تاہم پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے جس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے 21 فروری انتخابی اصلاحات 2017 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ 62، 63 پر پورا نہ اترنے والا نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کی صدارت نہیں کرسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں