صدارتی نظام ملک کیلئے خطرہ ہے ،شاہد خاقان

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد عام انتخابات کرانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ عام انتخابات وقت پر ہوں گے۔ اپنی مدت پوری کریں گے۔کارکردگی کی بنیاد پر عام انتخابات میںکامیابی حاصل کرینگے۔سیاسی عدم استحکام سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔دھرنے سے سی پیک میں تاخیر ہوئی۔ ملک ترقی کر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے پاس قرضے لینے کے لئے نہیں جائیں گے۔پاکستان کا ایل این جی کا کنٹریکٹ دنیا میں سب سے سستا ہے۔اتوار کو ٹی وی انٹرویو میںانہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا پہلے امیدوار تھا نہ اب ہوں۔کارکردگی اور بیانیہ کی بنیاد پر عام انتخابات میںکامیابی حاصل کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے7 ماہ میں نواز شریف کی جانب سے کبھی کال کرکے نہیں کہاگیا کہ یہ کرو یا یہ کام نہ کرو۔ ریڈ لائن پار کرنے والا شخص نہیں ۔ میری ریڈ لائن آئین ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کبھی وزیر اعظم بننے کی خواہش نہیں کی۔ ہر اچھے برے وقت میں پارٹی کے ساتھ رہا ،جو لوگ روز جماعتیں بدلتے ہیں، ا نہیں کامیاب ہوتے نہیں دیکھا ۔ 30 سال سے نواز شریف میرے لیڈر ہیں۔ ان کی ناہلی کی وجہ کوئی خامی نہیں ۔ عوام 2018 ءکے عام انتخابات میں اصل فیصلہ کریں گے اور عوام کا فیصلہ درست ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار سے30 سال پرانی وابستگی ہے وہ قومی اسمبلی میںپارٹی کے سینئر رکن ہیں ۔ان کا اپنا ایک موقف ہے لیکن میری رائے یہ ہے کہ بعض باتیں کھلے عام کرنے کی نہیں ہوتیں۔ یہ باتیں پارٹی کے اندرکرنی چاہئیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ صدارتی نظام میں پاکستان کے معاملات چلانا ممکن نہیں۔یہ پاکستان کے وجود کےلئے خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے مشاورت کریں گے۔ یہ ایسا شخص ہو گا جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ فیصلہ مئی کے آخری ہفتہ میں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں