طلال چوہدری پر فرد جرم عائد کردی گئی

وزیر مملکت برائےداخلہ طلال چوہدری پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی۔تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عدلیہ مخالف تقریر کرنے پر طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر طلال چوہدری کے خلاف فرد جرم عائد کرنے سے متعلق کارروائی شروع ہوئی تو ان کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ چارج فریم نہیں ہوسکتا جس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آج ہی چارج فریم کرنا ہے۔

اس موقع پر طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ گزشتہ روز ہونے والے توہین عدالت سے متعلق فیصلے درخواست کے ساتھ لگانا چاہتا ہوں، چارج بذات خود ایک دھبہ ہے۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نہیں یہ دھبہ نہیں ہے، ہم آپ کو سنیں گے اگر کیس نہ بنا تو چھوڑ دیں گے اور آپ کو حتمی دلائل کا موقع دیا جائے گا۔

اس سے قبل گذشتہ روز سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کے وکیل کی جانب سے دلائل کیلئے وقت مانگنے پر سماعت کل تک ملتوی کردی تھی۔

واضح رہے کہ گجرات میں ن لیگی رہنما نے عدلیہ مخالف تقریر اور ججز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں اور عدلیہ کو سیاسی ادارہ بنا رہے ہیں۔ عدلیہ پارٹی بن گئی ہے۔

گزشتہ سماعت پر چارج شیٹ طلال چودھری کے وکیل کے حوالے کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں