عارضی ذہانت کے انقلاب آفریں امکانات خطرناک قرار

 واشنگٹن۔۔۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم نوواردان میں سب سے بڑا نام مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے منصوبے پر ایلن مسک کی کمپنی کام کررہی ہے اور سرمایہ فراہم کررہی ہے۔ اسکا کہناہے کہ ابتک کی تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے اتنے خطرناک قسم کے امکانات سامنے آئے ہیں جنہیں ریلیز کرنا خواب و خیال سے زیادہ تباہ کن ہوگا۔ کمپنی نے اس سلسلے میں ایک ماڈل تیار کیا ہے۔ جن میں کچھ ایسی خطرناک خبریں ڈالی گئی ہیں جن کی حقیقت سرخیوں سے زیادہ کچھ نہیں اور تفصیلات کو صفر قرار دیا جاسکتا ہے۔ کمپنی کا کہناہے کہ اس نے عارضی ذہانت کا جو ماڈل تیار کیا ہے وہ ہمہ لسانی ہے۔ یعنی اسکی مدد سے کسی بھی زبان کی کتابیں پڑھی اور ترجمہ کی جاسکتی ہیں جبکہ دوسرے خطرناک امکانات کو سردست پوشیدہ رکھنے کا ہی فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ پروجیکٹ اسپیس ایکس کے بانی ایلن مسک کے سرمائے سے اپنا تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں مگر جو تحقیقات سامنے آئی ہیں وہ سردست انسانیت کیلئے حد سے زیادہ خطرناک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں