عاصمہ جہانگیر کے لئے تعزیتی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور ,دعا ئے مغفرت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں انسانی حقوق کے علمبردار ممتاز قانون دان سپریم کورٹ بار کے سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے تعزیتی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں, دعا کی گئی۔ قومی اسمبلی میں خاتون رہنما کے انتقال کو قومی نقصان قرار دے دیا گیا جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کسی کو غدار ملک دشمن قرار دینے کا سلسلہ اب تو بند کر دیں ,اب تو فتوئوں سے بعض آجائیں, عاصمہ جہانگیر کے بعد شاید اب مجھے غدار اور ریاست مخالف قرار دیا جانے لگے, مرحومہ کو جمہوری قوتوں کا ”جرنیل” کا خطاب دیا جائے. اس امر کا اظہار انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی کے دوران کیا .ایوان میں معمول کی کاروائی کو روک کر عاصمہ جہانگیر کے لیے تعزیتی قرارداد پیش کی گئی. قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے پیش کی. وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین ، فاٹا کے جی جی جمال ، پیپلز پارٹی کے رہنما سید غلام مصطفٰی شاہ اور دیگر نے قرارداد کی حمایت کی .پاکستان پیپلز پارٹی نے عاصمہ جہانگیر کو قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے سید غلام مصطفٰی شاہ نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے ہر طبقے کی جنگ لڑی, منگل کو ان کو قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے. متفقہ قرارداد میں عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے, دونوں ایوانوں کی تعزیتی قراردادیں عاصمہ جہانگیر کے ورثاء کو ارسال کر دی گئی ہیں .قبل ازیں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ان سمیت جن سیاسی رہنمائوں کو نظر بند کیا گیا سب سے پہلی آواز عاصمہ جہانگیر نے اٹھائی اور ڈکٹیٹر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی نظر بندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا. ہر دور میں عاصمہ جہانگیرکی حمایت جمہوریت کے حق میں تھی. محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے کمزور اور پسماندہ مظلوم ترین طبقات کی ہر پلیٹ فارم پر جنگ لڑی .وہ ہر محاذ کی سرگرم انسانی حقوق کی کارکن تھی .انہیں جمہوری قوتوں کا ”جرنیل” کا خطاب دیا جائے .وہ جمہوریت کی جرنیل تھی .انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنا اب تو بند کر دیں غداری اور ملک دشمنی کے الزامات اپنے لوگوں پر کب تک لگاتے رہیں گے, کب تک لوگوں پر فتوے لگتے رہیں گے, ہو سکتا ہے عاصمہ جہانگیر کے بعد اب غداری اور ریاست مخالف الزامات مجھ پر لگنا شروع ہو. قبل ازیں سینیٹ میں بھی عاصمہ جہانگیر کے لیے تعزیتی قرارداد منظور کر لی گئی یہ قرارداد قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے پیش کی تھی ۔سینیٹ میں عاصمہ جہانگیر کیلئے منظور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وہ متحرک سیاسی کارکن، مظلوم پسماندہ طبقات کے حقوق کی محافظ، ممتاز قانون دان، مذہبی آزادی کی علمبردار، اقلیتوں کے تحفظ کی موثر آواز تھیں۔ عاصمہ جہانگیر پاکستان کی سپریم کورٹ بار کیپہلی خاتون صدر تھیں۔ وہ بچوں اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم رہیں۔ خواتین کمیشن میں شامل رہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف فیکٹ فائنڈنگ مشن کا حصہ رہیں۔ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی چیمپئن تھیں۔ انہیں ہلال امتیاز، ستارئہ امتیاز عطا کئے گئے۔ وہ ایک بہادر جرات مند خاتون تھیں۔ ان کی شاندار خدمات کو دیر تک یاد رکھا جائے گاَ .متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے تعزیتی قرارداد عاصمہ جہانگیر کے لواحقین کو بھیج دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں