عالم اسلام سراپا احتجاج

مسلمانوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور بین الاقوامی فیصلوں کی دھجیاں اڑادینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عالم اسلام سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل سے تجارتی، معاشی اور سفارتی تعلقات کو منقطع کرلے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں یومِ غضب کے موقع پر ہزاروں فلسطینیوں نے جتّھوں کی شکل میں جمعہ کے روز مسجد اقصی کا رخ کیا۔ اس موقع پر قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے جب کہ پورے شہر میں عسکری چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئیں تھیں۔ اس کے باوجود 30 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے قبلہ اول مسجد اقصی میں جمعہ کی نماز ادا کی ۔ علاوہ ازیں مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 6 دسمبر کے اعلان قُدس کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔احتجاجی ریلیوں کے شرکاء اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ جھڑپوں کے دوران قابض فوج نے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے اور فائرنگ کی جس سے 4 فلسطینی شہید اور درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے۔
در ایں اثنا کل پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف کراچی میں ملیر، عباس ٹاؤن، اسٹیل ٹاؤن، ناظم آباد، نیو کراچی سمیت مختلف جامع مساجد پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ مرکزی مظاہرہ خوجہ اثناء عشری جامع مسجد کھارادر کے باہر کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ عالم اسلام مقبوضہ بیت المقدس کو صیہونی دارالحکومت ماننے کے امریکی اعلان کو مسترد کرتا ہے، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا امریکی فیصلہ غیر منصفانہ، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے، اس ظالمانہ اقدام کو واپس نہ لیا گیا تو دنیا بدامنی کا شکار ہوگی۔
ادھر ہندوستان میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اورحیدرآباد شہرمیں مجلس کے ہیڈ کوارٹردارالسلام میں مشترکہ مجلس عمل برائے تلنگانہ و آندھرا کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسہ عام برائے بازیابی بیت المقدس و تحفظ مسجد اقصیٰ میں مسلم رہنماوں،اکابرین اور مشائخ عظام نے متحدہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ شریعت محمدی اور قبلہ اول کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔ اس جلسہ عام میں جو صدر مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور نسل پرست حکومت ہے اور مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا اس کا منصوبہ جارحیت کی انتہا ہے لہٰذا اسے بلاتاخیر نہ صرف ایسے ناپاک منصوبہ سے باز آنا چاہئے بلکہ 1967ء کی سرحد پر واپس ہوجانا چاہئے۔ حکومت ہند سے اپیل کی گئی کہ وہ امریکہ کے اس نامنصفانہ اعلان کی بھرپور مخالفت کرے اور اس پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مغائر اپنے منصوبہ کو تر ک کردے۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ برائی کو روکنا، برائی کو برا بولنا، برائی کو برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ایمان کی کمزوری ہے۔ یزیدی لشکر کے سامنے حضرت امام حسین (ع) نے اپنے 72 رفقاء کی قربانی دے کر حق کی سربلندی کی قیامت تک آواز بلند کی۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کا تحفظ کوئی زمین کا جھگڑا ،فلسطین یا عربوں کا مسئلہ نہیں ہے یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے،یہ ایمان وکفر کی جنگ ہے،حق و باطل کی لڑائی ہے۔ اس میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ عالم اسلام اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی حکومت جنوری میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ کو منسوخ کرے ۔جس طرح امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے ، اسی طرح ہندوستانی حکومت بھی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں