عبدالرشید دوستم پر قاتلانہ حملہ، گارڈ ہلاک

افغانستان کے نائب صدر کمانڈر عبدالرشید دوستم قافلے پر حملے میں بال بال بچ گئے، سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا۔

بین الاقومی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالرشید دوستم پر یہ دوسرا حملہ تھا جس میں ان کی جان محفوظ رہی ہے۔

اس سے قبل 2017 ء میں کابل ائر پورٹ پر خود کش حملے وہ محفوظ رہے تھے جبکہ دیگر 10 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

افغان نائب صدر،طالبان مخالف ازبک کمانڈر ہیں،ان کے قافلے پر صوبے بلخ میں حملہ کیا گیا جس میں گارڈ ہلاک اور دیگر 2 محافظ زخمی ہوگئے تاہم نائب صدر محفوظ رہے۔

عبدالرشید دوستم نے اس سے قبل ایک اجتماع سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر مجھے مکمل اختیار اور موقع دیا جائے تو شمالی افغانستان سے محض 6 ماہ میں طالبان کا خاتمہ کردوں۔

طالبان مخالف کمانڈر عبد الرشید دوستم افغان وار میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچے اور طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد ملک سےباہر چلے گئے۔

نائن الیون کے بعد امریکا کی حمایت یافتہ حکومت بننے کے بعد واپس آئے، لیکن جنسی زیادتی کے مقدمات کے باعث ملک چھوڑ کر واپس چلے گئے۔

وہ جلا وطنی ختم کر کے 2017 میں کابل پہنچنے والے کمانڈر عبد الرشید دوستم کو افغانستان کا پہلا نائب صدر مقرر کیاتھا وہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی انتخابی مہم کا حصہ بھی ہیں۔

عبد الرشید دوستم کو 2001 میں 2 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کے بہیمانہ قتل عام اور شدید جنگی نوعیت کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں