عمران اور نوازکے مقدمات کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ،جسٹس فیصل عرب

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فیصل عرب نے کہا ہے کہ عمران خان اور نوازشریف کیس کے حقائق بہت مختلف ہیں، اس لئے ان دونوں مقدمات کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ،جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نےن لیگی رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ آج سنایا تھا۔

جسٹس فیصل عرب نے فیصلے میں عمران خان سے متعلق اضافی نوٹ لکھا ،جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں کیسز کے حقائق بہت مختلف ہیں ،ان کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔

فیصلے کے اضافی نوٹ میں جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ نوازشریف کیس میں منی لانڈرنگ،کرپشن،ذرائع سےزائدآمدن کےسنگین الزامات ہیں،وہ 30 سال میں کئی مرتبہ عوامی عہدیدار رہ چکے ہیں۔

اضافی نوٹ کے مطابق نوازشریف 30 سال کے دوران وزیر خزانہ ، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہ چکے ہیں ،ان کے کیس میں طے ہوا تھاکہ ایسےشخص کاایماندار،شفاف،اچھی ساکھ کاہوناضروری ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے یہ بھی لکھا کہ نوازشریف کے اثاثوں میں لندن کے 4 فلیٹس ، العزیزیہ اور گلف اسٹیل فیکٹریاں اور 840 ملین روپے کے تحائف شامل ہیں جو انہیں اپنے بیٹوں کی طرف سے ملے تھے ۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئر مین تھے ، وہ وہاں سے دس ہزار درہم تنخواہ وصول کر تے رہے، جے آئی ٹی تحقیقات میں پتا چلا کہ نو از شریف نے یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں