عمران خان کے طویل انٹرویو پر اپوزیشن جماعتوں کا شدید ردعمل

اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کے طویل انٹرویو پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان ایسے وزیراعظم ہیں جنہیں ٹی وی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ساتھ ہی الزام لگاتے ہیں کہ ن لیگ اور اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت کنٹرول کررکھی تھی، اصل میں یہ ایک جھوٹ اور یوٹرن ہے۔

ن لیگی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو پی ٹی آئی حکومت گرانے کےلئے اقدامات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، عمران خان کی ٹیم اور ان کی کارکردگی حکومت گرانے کے لیے کافی ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت چلانا عمران خان اور ان کی ٹیم کے بس کی بات نہیں ہے، وزیراعظم کا یہ کہنا کہ عوام کے لیے باعث تشویش ہے کہ انتخابات قبل ازوقت ہوں گے، قبل از وقت انتخابات کے بیان کے بعد عمران خان اپنی کُرسی پر نہ بیٹھیں۔

انہوں نے کہا کہ جس وزیراعظم کو اپنی حکومت پر اعتماد نہیں، وہ ایک منٹ بھی کرسی پر نہ بیٹھے،شہباز شریف این آر او مانگنے والے کا نام بتانے کا مطالبہ کر چکے ہیں، عمران خان نے اپنی نااہلی سے نظر ہٹانے کے لیے این آر او کی بات کی۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ عمران صاحب نے جس کو این آر او دینا تھا دے چکے، وہ ہیں علیمہ باجی کی منی لانڈرنگ جن کے پیچھے عمران خان ہیں جبکہ جیل جانے والوں اور 150 سے زیادہ پیشیاں بھگتنے والوں کو این آر او کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اہلیہ سے اپنے وزیر اعظم ہونے کا پتہ چلتا ہے اور ٹی وی سے ڈالر مہنگا ہونے کا پتہ چلتا ہے، پاکستان کی عوام عمران خان کی حیثیت کو پہچان چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ وزیراعظم کا مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے بیان انتہائی غیر ذمے دارانہ ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے بیان پرتعجب اور مایوسی کا اظہار کیا جا سکتا ہے، ہمارے ملک کی معاشی صورتحال اچھی نہیں ہے، معیشت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، متوسط طبقہ معاشی غیر یقینی کی فضا کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

ترجمان بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھ اور روپے کی قدر گر رہی ہے، وزیراعظم اپنی اورٹیم کی کارکردگی سے غیرمطمئن ہیں تو انھیں سرعام اس کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہماری اسٹاک ایکسچینج 1300 پوائنٹس سے زیادہ گری، ڈالر کی قیمت بڑھ اور روپے کی قدر گر رہی ہے۔


اے این پی ترجمان زاہد خان نے کہاکہ عمران خان سے سوال ہونا چاہیے کہ وہ نیب کے چیئرمین سے کیوں ملے، اُن سے پوچھنا چاہیے نیب نے تو صرف شہباز شریف کو پکڑا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان احتساب سے متعلق اتنے سنجیدہ ہیں تو احتساب کمیشن کو کیوں بند کیا ،عمران خان سے تو احتساب کمیشن کے ایک ارب سولہ کروڑ روپے وصول ہونے چاہییں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں