غربت سے غربت تک کا سفر

***وسعت اللہ خان ***
چلئے مان لیا پاکستان مسائلستان ہے ۔اس کا کچھ نہیں سدھر سکتا۔یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گاتو پھر جن لوگوں کو اللہ تعالی نے اپنی زندگی سدھارنے کیلئے مغرب کی جانب ہجرت کا موقع فراہم کیا  وہاں انہوں نے پاکستان کی نسبت اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع سے کیا اور کتنا فائدہ اٹھایا ۔وہ بیرون ِملک بس کر اپنی کتنی بنیادی محرومیاں مٹا سکے۔انہوں نے اپنے بچوں کو کس حد تک ایک بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے اور ایک کشادہ ذہن نسل بنانے کی کوشش کی ۔وہ وہاں کتنے خوش ہیں ؟ 
خلیجی ممالک میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی میں اس لئے مثال نہیں دوں گا کیونکہ ان کی اکثریت غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر پیسہ کمانے کے لئے گئی ہے۔ان میں خواندگی کا تناسب بھی کم ہے اور وہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب ہجرت کرنے والی مڈل اور لوئر مڈل کلاس  کے برعکس اتنی بقراطی بھی نہیں جھاڑتے۔ان کیلئے ملک میں بھی زندگی سخت تھی اور خلیجی ریاستوں میں بھی اتنی ہی سخت ہے اور یہ بات وہ اچھے سے جانتے ہیں اس لئے زیادہ گلہ مند بھی نہیں ہیں۔
چنانچہ میرا روئے سخن ان نسبتاً خواندہ لوگوں کی جانب ہے جنہیں شمالی امریکہ اور یورپ میں پہنچنے کا موقع ملا اور ان میں سے بیشتر برسوں سے وہاں مقیم ہیں۔بالخصوص برطانیہ میں تو تیسری نسل کے پاکستانی ہر چھوٹے بڑے قصبے میں عام مل جائیں گے۔یقینا بہت سوں نے کاروبار و ملازمت میں شاندار کامیابی بھی حاصل کی اور اپنا سماجی مقام بھی بنایالیکن پاکستانی تارکینِ وطن کو سب سے طویل عرصہ سے جگہ دینے والے اس ملک (برطانیہ) میں کیا حالات ہیں ۔اس کی تازہ ترین تصویر ایک سرکاری برطانوی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔اس سروے رپورٹ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مختلف رنگ و نسل اور پس منظر کی حامل غیر سفید فام برطانوی برادریاں برطانوی معاشرے کے مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر کس قدر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔پاکستانی نژاد برطانوی باشندوں کے بارے میں رپورٹ بتاتی ہے کہ برطانیہ میں 25فیصد سفید فام خواتین معاشی طور پر غیر فعال ہیں۔ان کے مقابلے میں 57فیصد پاکستانی خواتین کوئی اقتصادی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اس کی وجوہ میں گھریلو تشدد ، اندرونی سماجی جبر ، جبری شادیاں اور اقدار کو بچانے کے نام پر خواتین کو گھروں میں محدود رکھنا بتایا گیا ہے۔اس گھٹن کے نتیجے میں انگریزی زبان سے نابلد پاکستانی خواتین کی تعداد پاکستانی مردوں کے مقابلے میں دوگنی ہے۔41فیصد پاکستانی گھرانے غریبوں کی صف میں آتے ہیں۔ملک کے 10غریب ترین علاقوں کی آبادی میں پاکستانیوں کا تناسب 31فیصد کے لگ بھگ ہے۔پاکستانی مردوں میں بے روزگاری کی شرح سفید فام مردوں کے مقابلے میں 3گنا ہے۔ہر چوتھا برسرِ روزگار پاکستانی ٹیکسی چلاتا ہے۔2001 سے2011کے درمیان تقریبا 4لاکھ پاکستانی برطانیہ پہنچے لیکن وہ بھی پہلے سے بنے ہوئے پاکستانی محلوں میں کھپ گئے ۔اس کے سبب دیگر غیر پاکستانی کمیونٹیز سے ان کا رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔چونکہ ایسے زیادہ تر علاقے غربت میں جکڑے ہوئے ہیں لہذا ان پاکستانیوں کے بچے بھی کم معیاری اسکولوں ، شفاخانوں اور دیگر کم تر سہولتوں کا شکار ہیں۔گویا ایک کے بعد دوسری پسماندہ نسل جگہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ کینیڈا ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی اکثریت پروفیشنل اور پڑھے لکھے طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔سب سے زیادہ پاکستانی ٹورنٹو یا گرد و نواح میں آباد ہیں۔ٹورنٹو کے مضافاتی علاقے تھورن کلف پارک کی20ہزار آبادی میں سے ہر چوتھا شخص ، عورت یا بچہ اردو بولتا ہے۔زیادہ تر پاکستانی یہاں2008 کے بعد آ کر بسے ہیں۔یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ تعلیمی ڈگری تو ہے مگر کینیڈین ادارے نہ اس ڈگری سے مطمئن ہیں نہ قابلیت سے امریکہ میں اگرچہ پاکستانی پروفیشنل کلاس اچھی ، پھیلی ہوئی اور خوشحال ہے مگر بیشتر لوگ دیگر برادریوں کے مقابلے میں قومی سیاسی دھارے میں فعال کردار ادا کئے بغیر نظام میں کیڑے نکالنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔حالات کی سختی نے انہیں اور زیادہ متحرک ہونے کے بجائے اپنے خول میں مزید بند ہونے کی ترغیب دی ہے۔چنانچہ ہندوستانی برادریوں کو تقریبا کھلا میدان ملا ہوا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں کو پاکستان میں ہر شعبے میں اتنی تنگی محسوس ہوئی کہ انہوں نے بیرونِ ملک اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کی خاطر مراجعت کا اہم ترین فیصلہ کیا ۔ان کی اکثریت نے ایسا کیا تیر مارا جو پاکستان میں رہ کر نہیں مارا جا سکتا تھا۔اگر تو وہاں بھی غربت اور پسماندگی کے درمیان ہی جھولنا تھا اور ’’اپنا گرائیں ہے جی‘‘ کی ذہنیت کو گلے لگا کے رکھنا تھا اور اپنی عورتوں کو وہاں لے جانا بھی تھا اور مغرب زدگی سے بچانے کیلئے گھروں میں ہی رکھنا تھا اور اپنی اولاد کی مغربی ماحول میں پرورش کے باوجود ان کے رشے ناتے بھی خود ہی طے کر کے ان کی زندگیوں پر تھوپنے تھے ۔ کچھ جوشیلوں کو یہ کام بھی کرنا تھا کہ کسی طرح برطانیہ اسلام کا قلعہ بن جائے بھلے اس کوشش میں لاکھوں دیگر مسلمان تارکینِ وطن کی زندگی مزید تنگ ہی کیوں نہ ہو جائے۔اگر یہی سب ہونا تھا تو پھر پاکستان کیا برا تھا ۔اتنا کشٹ کاہے کو اٹھایا۔میں یہاں سو جوتے سو پیاز والی مثال بوجوہ نہیں دینا چاہتاکیونکہ اس ہجومِ پردیسیان میں بہت سے پاکستانی ایسے بھی ہیں جنہوں نے نہایت محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ واقعی وہ ٹارگٹ حاصل کر لئے جن کیلئے انہوں نے ملک چھوڑا تھامگر وہ تعداد میں کتنے ہوں گے ؟ چند ہزار ؟ باقیوں کے ہاتھ کیا آیا ؟ یہی کہ کھاریاں کی غربت راچڈیل کی غربت سے بدل گئی ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں