فرانس میں مظاہرے، ہنگامی حالت نافذ کرنے پر غور

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ہفتے کو پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا، ان کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کی جاسکتی ہے۔

فرانسیسی صدرنے وزیراعظم ایڈورڈ فلپ کو مظاہرین سے مذاکرات کی ذمے داری سونپ دی۔

فرانسیسی صدر نے پیرس کی مشہور زمانہ شانزے لیزے ایونیو اور تاریخی یادگار Arc De Triomphe کا دورہ کرکے جلائی گئی گاڑیوں اور عمارتوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے ایک اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں مظاہرین سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا، مذاکرات کی ذمے داری وزیر اعظم کو سونپی گئی ہے۔

مظاہروں نے فرانس کی بزنس کمیونٹی میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے جس کا کہنا ہےکہ مظاہروں سے اربوں یورو کا نقصان ہوچکا ہے۔

بزنس کمیونٹی آج وزارت اقتصادی امور میں ہونے والے اجلاس میں نقصانات کی تفصیل سے آگاہ کرے گی۔

ہفتے کو فرانس میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں 23سیکیورٹی اہل کاروں سمیت 263افراد زخمی ہوئے۔

ان مظاہروں کےدوران درجنوں گاڑیوں اور عمارتوں میں آگ لگائی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی، پولیس نے 370 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں