’’فریئر ہال‘‘ برطانوی طرز تعمیر کا حسن و جمال

روشنیوں کے شہر کراچی میں جب دل کرے کچھ نو آبادیاتی، برطانوی طرز تعمیر کا نظارہ دیکھنے کا ،تو قدم خودبخود عبداللہ ہارون روڈ (سابقہ وکٹوریہ روڈ) اور فاطمہ جناح روڈ (سابقہ بونس روڈ) کے درمیان واقع اس خوبصورت عمارت کی جانب بڑھتے ہیں، جسے ’’فریئر ہال‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس عمارت میں داخلے کے بعد یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے تاریخ کے اوراق الٹ رہے ہوں اورہم متحدہ ہندوستان میں واپس آگئے ہوں ۔اس احساس کی وجہ عمارت کا طرز تعمیر ہے، جسے برطانوی اور برصغیر کے مقامی طرز تعمیر کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے۔ آج اس یادگار عمارت کی تعمیر کے حوالے سے کچھ گفتگو کرتے ہیں۔

فریئر ہال کی تاریخ

فریئر ہال کراچی کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔ 1863ء (تقریباًڈیڑھ سوسال سے زائد عرصہ قبل) میں انگریز دور حکومت میں ٹاؤن ہال کی حیثیت سے اس کی تعمیر کا آغاذ ہوا اور دو سال کے عرصے میں اسے مکمل کیا گیا۔1863ء میںسابق چیف کمشنر سندھ، سرہینری بار ٹل ایڈورڈ فریئر، کے انتقال کے بعد سندھ میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر کراچی ٹاؤن ہال کا نام ان سے منسوب کرکے ’فریئر ہال‘ کردیا گیا۔ اس عمارت سے متعلق تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ فریئر ہال کی تعمیر کے لیے زمین 2ہزار برٹش انڈین روپے میں خریدی، یہ رقم ڈبلیو پی اینڈریواور سر فیڈرک آرتھر نے عطیہ کے طور پر دی۔

ڈیزائن اور تعمیراتی لاگت

برطانوی اور برصغیر کے مقامی طرز تعمیر کے خوبصورت شاہکار فریئر ہال کی ڈیزائننگ کے لیے 12آرکیٹیکچر کا انتخاب کیا گیا، جن میں ہینری سینٹ کلیئر ولکنس (Henry Saint Clair Wilkins) کا ڈیزائن منتخب کیا گیا۔ فریئر ہال کی تعمیر کی بات کی جائے تو اس پر ایک لاکھ 80ہزار روپے لاگت آئی، جس میں سے 10ہزار حکومت نےدیے جبکہ باقی بلدیہ کراچی نے اداکیے۔

طرز تعمیر

اس عمارت کاطرز تعمیرونسیٹ گاتھک اور سرکونک اسٹائل کا ہے جبکہ ہال کی عمارت کی اونچائی 144فٹ ہے، جس کی تعمیر میں زرد پتھر سمیت بھورے اور سرخ رنگ کے پتھر کا استعمال کیا گیا ہے۔ان پتھروں کاانتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ ا ن پر رنگ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ پانی چھڑکنے سے ہی یہ پتھر بالکل نئے نظر آنے لگتے ہیں۔ اس عمارت میںانفرادی انداز میں بنوائی گئی چھتیں ، لیاقت لائبریری، باغ جناح اورصادقین آرٹ گیلری بنائی گئی ہے، جو اس عمارت کی تمام تر خوبصورتی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

فریئر ہال مینار:فریئر ہال کے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہونے پر عمارت کے ساتھ ہی براؤن کلر کا ایک خوبصورت مینار تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً7فٹ اونچا ہے۔ اس مینار سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ مینار بلوچ انفینٹری سے تعلق رکھنے والے ان جاںبازوں کی یاد میں بنایا گیا ہے جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں انگریز سرکار کی سلامتی کے لیے اپنی جانیںپیش کی تھیں۔

لیاقت لائبریری: فریئر ہال کو 1947ء کے بعد قومی ورثہ قرار دیا گیا اور اس عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ایک لائبریری بنائی گئی، جسے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی خدمات کے اعتراف میں ان کےنام سے منسوب کیا گیا۔ اس لائبریری میں70ہزار سے زائد علوم اور فنون کی کثیر تعداد میں کتابیں موجود ہیں، جن میں ہاتھ سے لکھے ہوئے قدیم و تاریخی خطوط بھی شامل ہیں۔

صادقین آرٹ گیلری:عمارت کی اوپری منزل کو پاکستان کے مشہور اور نامی گرامی مصور صادقین کی “آرٹ گیلری” کے نام سے منسوب کردیا گیا تھا، جہاں اُن کے بنائے گئےمصوری کے نمونے قدردانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں ۔

صادقین کی مصوری سے مزین فریئر ہال کی چھت : فریئر ہال کی ایک اور اہم خاصیت بالائی منزل کی چھت ہے، جوپاکستان کے شہرہ آفاق مصور، خطاط اور نقاش ’’صادقین‘‘ کےخوبصورت فن پاروں سے مزین ہے۔ 1986ء میں صادقین نے چھت کو اپنی مصوری سے مزین کرنے کاآغاز کیا تھا اور44فٹ بلند عمارت میںصادقین نےاپنے فن سے کمرے کی چھتوں پر سورۃ الرحمٰن کی آیات کی کشیدہ کاری کی۔ حکومت نے اُن کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے بالائی منزل پر موجود آرٹ گیلری کو 1990ء میں صادقین کے نام سے منسوب کردیا۔

باغ :ماضی میں فریئر ہال ایک یادگار عمارت ہی نہیں بلکہ ایک عوامی تفریح گاہ بھی تھی، جس میں خوبصورت باغبانی اور عمدہ پھولوں کی کیاریاں بھلائی نہیں جاسکتیں۔ جی ہاں !ماضی میں اس ہال کے پاس”کوئین لان” اور “کنگ لان” کے نام سے دو سبزہ زارتھے۔ جنہیں قیام پاکستان کے بعد “جناح گارڈن” میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ باغ آج بھی بچوں اور نوجوانوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور اس باغ میں موجود درخت فریئر ہال کی عمارت کو گھیرے ہوئے ہیں جس کے سبب اس عمارت کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔ اکثر اتوار کویہاں کتابوں کی نمائش لگتی ہے، جو کتب بینی کا شوق رکھنے والوں کواپنی طرف کھینچتی محسوس ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں