’فیس بک کے بانی صارفین کی معلومات محفوظ نہ رکھنے کے ذمہ دار‘

امریکی نگران ادارے ’ فیڈرل ٹریڈ کمیشن ‘ نے فیس بک کے صارفین کی نجی معلومات کی مکمل حفاظت نہ کرنے پرکمپنی کے مالک مارک زکر برگ کو برا ہ راست ذمہ دار ٹھہرانے کا عندیہ دیا ہے۔ 
امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ، فیس بک اور امریکی ٹریڈ کمیشن کے حکام کے ما بین صارفین کی ذاتی معلومات میں کوتاہیوں کے حوالے سے جاری مذاکرات کی بنیاد پرکمپنی کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ پر براہ راست ذمہ داری عائد کی جاسکتی ہے۔
فیس بک اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ہے جس کے دنیا بھر میں2 ارب سے زیادہ صارفین ہیں۔ 
فیس بک کی بنیاد مارک زکر برگ نے 2004 ءمیں رکھی تھی اور کمپنی کے بیشتر ’ووٹنگ سٹاک‘ کی ملکیت بھی انہی کے پاس ہے، جس سے انہیں کمپنی کی پالیسی کا تعین کرنے کا اختیار بھی ملتا ہے۔ 
واشنگٹن پوسٹ نے شناخت چھپاتے ہوئے 2 ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کی جانب سے مارک زکربرگ پر پابندیاں لگانے سے دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان کوبھی پیغام ملے گا کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن نجی معلومات میں کوتاہی برتنے پر ان کا احتساب کر سکتا ہے۔ 
اس خبر کے حوالے سے امریکی ٹریڈ کمیشن نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔
صارفین کی نجی معلومات کی بنیاد پر تجزیے کرنے والا بین الاقوامی ادارہ ،کیمبرج اینالیٹکا کے حوالے سے انکشاف کیا گیا تھا کہ اس نے آٹھ کروڑ ستر لاکھ فیس بک صارفین کی معلومات ان کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہیں، جس کے بعد گزشتہ سال ٹریڈ کمیشن نے فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ 
ٹریڈ کمیشن فیس بک کے صارفین کی معلومات کی حفاظت کے حوالے سے 2011 ءمیں کیے گئے معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے جس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا تعین کیا جا سکے گا۔ 
ٹریڈ کمیشن کے احکامات کے مطابق فیس بک پر لازم ہے کہ وہ معلومات جو صارفین نے فیس بک پرپوشیدہ رکھی ہوئی ہیں انہیں صارفین کی رضامندی حاصل کئے بغیر استعمال نہ کرے۔ 
اس سے پہلے بھی واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ، ٹریڈ کمیشن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر فیس بک پر اربوں ڈالر جرمانہ لگانے جا رہا ہے۔ جو گزشتہ عرصے میں لگائے گئے جرمانوں میں سے سب سے زیادہ ہو گا۔ 
کمیشن نے گو گل کو2012 ءمیں ایپل کے سفاری براو¿زر میں نجی معلومات کے حفاظتی کنٹرولز کو نظر انداز کرنے پر 2کروڑ ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ 
گزشتہ سال فیس بک کوصارفین کی نجی معلومات کی حفاظت نہ کرنے، نفرت انگیز بیانات کی تشہیراور جھوٹی خبریں پھیلانے پر کڑی تنقید کا سامنا کر نا پڑا تھا۔ 
جمعرات کو فیس بک سے منسلک انسٹاگرام نے ایک بلاگ میں انکشاف کیا تھا کہ چار ہفتے قبل فیس بک کے پاس ورڈ سیکیورٹی سسٹم میں خرابی ہونے کی وجہ سے لاکھوں مزید صارفین متاثر ہوئے تھے جبکہ فیس بک نے متاثرہ افراد کی تعداد صرف ہزاروں میں بتائی تھی۔
فیس بک کی جانب سے صارفین کے اکاونٹس کے پاس ورڈسادہ ٹیکسٹ کی شکل میں اس طرح محفوظ کیے گئے تھے کہ کمپنی کا کوئی بھی ملازم ان کو آسانی سے تلاش کر سکتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں