فیض آباد میں 22 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا

اسلام آباد: (سنہرادور آن لائین) فیض آباد میں 22 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین نے پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ملک بھر میں دھرنے فوری طور پر ختم کر دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا ابھی ہمارے پاس 12 گھنٹے کا وقت ہے، حکومت سے معاہدہ ہوچکا ہے، پر امن گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔
نہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دھرنے کے شرکاءشہداءکے قل شریف پڑھیں گے جس کے بعد وہ اسلام آباد سے پرامن طریقے سے روانہ ہو جائیں گے اور ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہرے بھی ختم کر دئیے جائیں گے جبکہ واپسی کیلئے ان کے پاس تمام انتظامات موجود ہیں۔
انہوں نے ہڑتال ختم کرنے اور کل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا بھی کہا اور یہ اعلان بھی کیا جو لوگ اپنے کاروبار کھولنا چاہتے ہیں، وہ کھول سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا حکومت کیساتھ معاہدہ ہوا ہے کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کے تمام ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے گا، ایف آئی آربھی درج ہو گی اور سزا بھی دلوائی جائے گی۔
واضح رہے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان معاملات طے پائے تھے۔ معاہدے میں کہا گیا وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد تحریک لبیک کوئی فتوی جاری نہیں کرے گی۔ راجا ظفر الحق رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی، الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ معاہدے کے مطابق 6 نومبر کے بعد سے مذہبی جماعت کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات اور نظربندیاں بھی ختم کی جائیں گی۔ معاہدے پر وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکرٹری داخلہ اور علامہ خادم حسین رضوی نے دستخط کئے۔ معاہدے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں