قبائلی اضلاع الیکشن، غیر حتمی نتائج میں آزاد امیدواروں کو برتری

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع اور ایک ایف آر ریجن میں صوبائی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں پر انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں جس میں آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ تحریک انصاف دوسرے نمبر پر ہے۔

پی کے 100 میں تحریک انصاف کے انور زیب خان 6716 ووٹ لیکر آگے ہیں، جماعت اسلامی کے وحید گل 4196 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 101 باجوڑ ایجنسی میں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون الرشید 7109 جبکہ اے این پی کے لعلی شاہ 5201 کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 103 میں تحریک انصاف کے رحیم شاہ 1388 کیساتھ آگے اے این پی کے نثار مہمند ایک ہزار 139 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 104 مہمند ایجنسی میں آزاد امیدوار عباس الرحمن 4ہزار سے زائد ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سجاد خان 3400 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

پی کے 105 خیبر ایجنسی میں آزاد امیدوارشفیق آفریدی 6 ہزار سے زائد ووٹ لیکر آگے ہیں، آزاد امیدوار شیر مت خان 1634 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہے۔ پی کے 106 میں آزاد امیدوار بلاول آفریدی 3433 جبکہ آزاد امیدوار خان شیر آفریدی 2306 کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 108 میں جے یو آئی (ف) کے 4600 سے زائد ووٹ لیکر آگے ہیں۔ پی ٹی آئی یہاں تیسرے نمبر پر ہے۔ 2058 ووٹ لیے۔

پی کے 109 میں تحریک انصاف کے سیّد اقبال میاں 9229 ووٹ لیکر آگے ہیں، آزاد امیدوار عنایت علی 93944 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 110 اوکرزئی ایجنسی میں آزاد امیدوار غزن جمال 7 ہزار سے زائد ووٹ لیکر آگے جبکہ پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر ہے۔ پی کے 112 میں آزاد امیدوار میر کلام خان 3609 ووٹ لیکر آگے، جے یو آئی ف کے صدیق اللہ 2064 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

پی کے 113 جنوبی وزیرستان میں میں جے یو آئی (ف) کے حافظ عصام الدین 1632 لیکر آگے آزاد امیدوار قیوم شیر 1170 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 114 میں پاکستان تحریک انصاف کے نصیر اللہ خان 127 ووٹ کیساتھ آگے ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) کے صالخ 105 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی کے 115 میں پی ٹی آئی کے عابد رحمن 3661 ووٹ لیکر آگے جبکہ جے یو آئی ف کے شعیب آفریدی 2279 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

اس سے قبل قبائلی اضلاع میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ووٹنگ کیلئے لوگوں میں جوش وخروش رہا، پولنگ سٹیشنز کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود لوگ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ پولنگ میں اضافے کی تجویز زیر غور نہیں۔

باجوڑ، مہمند، خیبر، ضلع کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ایک ایف آر ریجن میں الیکشن کیلئے 18 سو 96 پولنگ سٹیشنز قائم ہیں۔ 554 پولنگ سٹیشنز کو حساس ترین اور 461 کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں پاک فوج اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔

پولنگ سٹیشن کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں۔ تاریخ ساز الیکشن میں 28 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں اور 282 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، خواتین ارکان بھی شامل ہیں۔

الیکشن میں تحریک انصاف کے سب سے زیادہ 16 امیدوار میدان میں ہیں، جے یو آئی کے 15، پیپلز پارٹی کے 13، اے این پی کے 14 اور قومی وطن پارٹی کے 3 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے 5 اور جماعت اسلامی کے 13 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 202 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عملہ یا سیکیورٹی اہلکار کسی کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب نہیں دے سکتے، ووٹ ڈالنے کیلئے اصل شناختی کارڈ لازمی اور فوٹو کاپی قابل قبول نہیں ہوگی، ووٹرز، انتخابی عملہ اور پولنگ سٹیشن پر موجود دیگرافراد ووٹ کی رازداری کا خیال رکھیں۔

بیلٹ پیپر پر نشان لگانے کیلیے پولنگ حکام کی فراہم کردہ مہر استعمال کریں، پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل اور کیمرہ لانے کی اجازت نہیں ہے، مقررہ وقت کے اختتام کے بعد بھی پولنگ سٹیشن کے اندر موجود ووٹرز اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں میں تحریک انصاف 85 سیٹیں کے ساتھ اوّل نمبر پر ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 13 ہیں، اے این پی کے پاس 11 جبکہ مسلم لیگ ن کے پاس 6، پیپلز پارٹی کے پاس 5 سیٹیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں