قصور: ننھی زینب کے لرزہ خیز قتل پر دوسرے روز بھی پورا شہر سراپا احتجاج

مظاہرین نے ڈسٹرکٹ اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ مشتعل افراد نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی، مظاہرین نے حکومتی بینرز اور بورڈ اکھاڑ دیئے۔

قصور: (سنہرادور آن لائن) ننھی زینب کے لرزہ خیز قتل کے بعد قصور میں کشیدگی برقرار ہے۔ دوسرے روز بھی پورا شہر سراپا احتجاج بنا رہا، ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا اور شدید نعرے بازی کی۔ پولیس کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث 2 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کے بعد صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر بپھرے مظاہرین کو کسی نے نہ روکا۔

مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ اسپتال قصور پر دھاوابول دیا، ڈاکٹرز اور عملے کو نکال کر اسپتال کو تالے لگا دیئے گئے، مظاہرین نے وہاں توڑ پھوڑ کی اور حکومتی بینرز بورڈ اکھاڑ دیئے۔ مظاہرین نے مجرم کی گرفتاری اور فوری سزا کا مطالبہ کر دیا۔

وزیراعلی کی زینب کے گھر آمد

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صبح سویرے زینب کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے مقتولہ کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔ وزیر اعلی پنجاب کے ہمراہ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان اور پولیس کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔ شہباز شریف کو نئے ڈی پی او زاہد خان مروت نے بریفنگ دی۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے زینب کیس میں ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، سانحہ قصور میں فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ڈی پی او ذوالفقار احمد فارغ

قصور کے المناک واقعے پر ڈی پی او ذوالفقار احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، زاہد مروت ضلعی پولیس کے نئے سربراہ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنا دی۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ذوالفقار احمد کو بچی کے سفاکانہ قتل کے ملزم گرفتار نہ کرنے اور شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں ناکامی پر ہٹایا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں جے آئی ٹی بھی بنا دی۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے افسر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے جے آئی ٹی سے آئندہ 24 گھنٹے میں رپورٹ مانگ لی ہے۔

پولیس اہلکار گرفتار

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق، گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے 2 افراد کے ذمہ دار 5 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

پی ٹی آئی خواتین کا احتجاج

پشاور میں پی ٹی آئی کی خواتین ونگ کی ارکان قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے اندوہناک واقعے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئیں۔ خواتین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا، مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر معصوم زینب کو انصاف دو کے نعرے درج تھے۔ خواتین نے پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ مظاہرہ کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ آج وہ کسی سیاسی جماعت کے ورکرز کی حیثیت سے نہیں بلکہ ماؤں کی حیثیت سے زینب کے خون کا حساب مانگ رہی ہیں، پنجاب حکومت اگر زینب کے والدین کو انصاف نہیں دے سکتی تو قوم کو کھل کر بتا دے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانیت سوز واقعے میں ملوث ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

خیال رہے کہ چھ روز قبل 7 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا، جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ اس حوالے سے ابتدائی طور پر پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا لگتا ہے کہ بچی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔ اس واقعہ کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تا ہم پولیس اس واقعہ کے ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی، پولیس نے ملزم کا خاکہ بھی جاری کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں